امریکہ افغان جنگ پاکستان میں لڑنے کی امید چھوڑ دے ,خرم دستگیر

وفاقی وزیر دفاع خرم دستگیر خان نے کہا ہے کہ جماعت الدعوہ کے خلاف کارروائیاں آپریشن ردالفساد کے تحت کی جارہی ہیں جن کا امریکہ سے کوئی تعلق نہیں ہے، جماعت الدعوہ کے خلاف کارروائی سوچ سمجھ کر کی جا رہی ہے تاکہ پاکستان کا مستقبل محفوظ ہو سکے اور آئندہ دہشت گرد کسی سکول میں بچوں کو گولیاں نہ مار سکیں، افغانستان کی جنگ پاکستان کی زمین پر نہیں لڑی جائے گی، اگر امریکہ کو ایسی امید ہے تو واضح رہے کہ ایسا نہیں ہو گا۔بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں وفاقی وزیر دفاع خرم دستگیر خان نے کہا کہ ایسا نہیں ہے کہ ہم بندوقیں لے کر اپنے ہی ملک پر چڑھ دوڑیں گے ، وہ وقت گزر گیا ہے ، اب ہم نپے تلے اور سوچ سمجھ کر فیصلے کریں گے، موجودہ پاکستان ضربِ عضب کے بعد کا پاکستان ہے، جو شہریوں، جوانوں اور افسروں کی قربانیوں اور کامیاب آپریشنز کے بعد حاصل ہوا ہے۔انہوں نے ٹرمپ کے ٹویٹ کو نقطہ انتہا قرار دیتے ہوئے کہا کہ حالیہ چند ماہ میں امریکی قیادت سے مثبت گفتگو ہوتی رہی ہے لیکن عوامی سطح پر منفی تاثر دیا جاتا ہے، امریکہ ہم سے انسدادِ دہشتگردی سیکھنے کی بجائے دشنام طرازی کر رہا ہے۔پاکستان اور امریکہ کا تعلق اب دوستی اور دشمنی کے پیرائے سے نکل چکا ہے۔پاکستان نے مودب لیکن کھل کر اور بے لاگ انداز میں امریکہ کو بتا دیا ہے کہ وہ پاکستان پر افغانستان میں ناکامی کے بعد پاکستان پر الزام تراشی نہ کرے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی آدھی فضائی حدود امریکہ کے لیے مکمل طور پر کھلی ہے، جبکہ زمینی راستے بھی دیے گئے ہیں، جن کے بغیر امریکہ کی افغانستان میں رسائی نہایت مشکل ہو گی اس لیے امریکہ بجائے نو مور اور نوٹسز کے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرے۔امریکہ اور پاکستان کے درمیان اعلیٰ ترین سطح پر بات چیت ہوتی رہی ہے لیکن دونوں ملکوں کے درمیان سٹریٹیجک ڈائیلاگ اب بھی معطل ہے۔تعاون کی زبان میں بات ہونی چاہیے ، منفی اور دھمکی کی زبان استعمال کی گئی تو پاکستان کے عوام ، منتخب حکومت اور افواج کو سخت ترین تحفظات ہیں۔وزیر دفاع نے امریکہ کی جانب سے پاکستان کو حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کی ڈیڈ لائن دیے جانے سے متعلق خبروں کی سختی سے تردید کی اور کہا کہ پاکستان ایک خود مختارجوہری طاقت ہے، جسے اس طرح کی ڈیڈ لائنز نہیں دی جا سکتیں۔ انہوں نے امریکی نائب صدر کے پاکستان کو نوٹس دیے جانے سے متعلق بیان پر کہا کہ تقاریر اور ٹویٹس ان باتوں سے متصادم ہیں جو امریکی اعلیٰ عہدیداروں نے پاکستان سے کی ہیں، وہ تو ہم سے سیکھنے اور تعاون کی بات کرتے ہیںخرم دستگیر کے مطابق پاکستان میں دہشت گردوں کی خفیہ پناہ گاہیں نہیں ہیں اور اگر باقیات ہیں تو انہیں رد الفساد کے تحت ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر امریکہ کے پاس دہشت گردوں کی موجودگی سے متعلق ٹھوس اور قابلِ عمل انٹیلی جنس معلومات ہیں تو بتایا جائے پاکستان فوری کارروائی کرے گا۔وفاقی وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعاون تقریباً ختم ہو چکا ہے، دو طرفہ دفاعی تعاون ختم ہونے کا نقصان ان پرزہ جات کی مد میں ہوگا جو ملکی افواج امریکہ سے خریدتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کولیشن سپورٹ فنڈ کی مد میں امریکہ نے اب بھی پاکستان کو 10 ارب ڈالر ادا کرنے ہیں۔ پاکستان کی معیشت میں بتدریج وہ طاقت آ گئی ہے کہ ہم اپنی مسلح افواج کو پوری طرح سپورٹ کر سکیں، امداد روک کر پاکستان پر اپنی مرضی مسلط کرنا ممکن نہیں رہا۔

خرم دستگیر نے کہا کہ افغانستان کی جنگ پاکستان کی زمین پر نہیں لڑی جائے گی، اگر امریکہ کو ایسی امید ہے تو واضح رہے کہ ایسا نہیں ہو گا۔اگر امریکہ افغانستان میں ناکامی کا ملبہ پاکستان کے سر ڈالنے کی کوشش کرے گا تو ہم افغانستان کی ذمہ داری نہیں اٹھائیں گے۔ پاکستان افغانستان کی خودمختاری کا احترام کرتا ہے، افغانستان کا فرض ہے کہ وہ بھی ہماری خودمختاری کا احترام کرے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.