طالبہ کوہراساں کرنے کے معاملے پروزیراعلیٰ سندھ کی مشیرکااہم اعلان

کراچی: وزیراعلیٰ سندھ کی مشیر برائے سماجی بہبود شمیم ممتاز کا کہنا ہےکہ جامعہ کراچی میں طالبات کو ہراساں کرنے کےمعاملےکا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا دیکھا جائے گا کہیں لڑکے بھی متاثر تو نہیں ہورہے۔

جامعہ کراچی میں دو روز قبل ایک طالبہ کی جانب سے لیکچرار پرہراساں کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔طالبہ کا کہنا تھا کہ اچھے نمبر دینے کے نام پر ایک لیکچراربلیک میل کرتے ہیں، کہتے ہیں باہر ملو، فون پر بات کرو، ملنے آؤ، تصویریں دو تو پاس ہوجاؤ گی۔ سرنے گروپ کے دیگر لڑکوں سے بات کرنے سے بھی منع کیا اور مجھ سے بات کرنے کی وجہ سے گروپ کے تمام لڑکوں کو فیل کردیا۔

معاملے پر وزیراعلیٰ سندھ کی مشیر برائے سماجی بہبود شمیم ممتاز سے بات کہہ گئی تو ان کا کہنا تھا کہ معاملہ سنگین صورتحال اختیار کرگیا ہے۔ ڈین سے ملاقات کریں گے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ جامعہ کراچی جیسی مستند یونیورسٹی کو بدنام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہو۔

شمیم ممتاز کے مطابق حیدرآباد کی طرح ڈین کی اجازت سے کمپلین باکس بھی نصب کریں گے تا کہ بچیاں اپنی شکایات اس باکس میں ڈال دیں۔ یہ بھی دیکھیں گے کہ کہیں لڑکے بھی متاثرتو نہیں ہورہے کیونکہ اچھی جاب اورنمبرزکے نام پر سب کیا جا رہا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ کی مشیر سے پوچھا گیا کہ انچارج اینٹی ہراسمنٹ کمیٹی نسرین اسلم کی جانب سے کارروائی کے بجائے الٹا طالبات کو ہی موردالزام ٹھہرانے پر شمیم ممتاز نے اپنا موقف دیتے ہوئے کہا سابق صدر پاکستان بھی ایسے ریمارکس دے چکے ہیں، مختاراں مائی، ڈاکٹرشازیہ کے کیس میں کہا گیا تھا کہ عورتیں باہر جانے کیلئے ایسا کرتی ہیں، تو نسرین اسلم سے پوچھا جائے گا اگر ایسی بات کی ہے تو اس کے پیچھے کیا وجہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایک شخص غلط کہہ سکتا ہے ، لیکن کسی کا بار بار نام آٗئے تو ہر کوئی جھوٹ نہیں بول سکتا۔ پولیس کو بھی معاملے میں شامل جائے گا


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.