ملک میں 70 فی صد عورتیں تشدد کی نظر

پی پی اے ایف کے چیف ایگزیکٹو قاضی عظمت عیسیٰ نے عورتوں پر ہونے والے تشدد کے حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ’ہیومن رائٹس واچ کے تخمینے کے مطابق پاکستان میں کم از کم 70 فیصد خواتین پر مرد حضرات کی طرف سے تشدد کا سامنا رہتا ہے۔

تشدد کے باعث سالانہ 5 ہزار سے زائد خواتین قتل ہوجاتی ہیں۔ عالمی سطح پر ہر تین میں سے ایک خاتون کو تشدد کا سامنا ہے۔ دنیا کی 500 بڑی کمپنیوں میں صرف 25 خواتین سی ای او ہیں۔ پاکستان میں صرف دو خواتین اس عہدے پر کام کررہی ہیں۔

لڑکیوں کو سکول جانے سے روکا جاتا ہے اور کم عمری میں ہی ان کی شادی کردی جاتی ہے۔ لاکھوں خواتین اور لڑکیوں کو نقصان دہ قوانین، رواج اور طریقوں کے ذریعے روکا جاتا ہے جن میں خواتین و لڑکیوں کا غیرت کے نام پر قتل نمایاں طور پر نظر آتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا’انہی وجوہات کی وجہ سے ہم بطور قوم ترقی نہیں کرپائے ہیں۔ ملک میں خواتین سے بدسلوکی عام ہے ،ہم نے انسانی سرمائے پر بہت ہی کم سرمایہ کاری کی ہے۔ ہمارا معاشرہ متوازن نہیں ہے اور ہم سب اس بات سے واقف ہیں کہ غیرمنصفانہ معاشرہ زیادہ عرصے تک نہیں چلتا۔

ان کا کہنا تھا کہ میں ایسا پاکستان تصور کرتا ہوں جہاں خواتین اور لڑکیاں خوف سے آزاد ہوں، آزادی سے زندگی گزاریں اور اپنی بھرپور صلاحیتوں کا استعمال کریں۔ میں آپ سب کو اپنی اقدار کی عزم نو کیلئے مدعو کرتا ہوں اور اس بات کا یقین دلاتا ہوں کہ ہم ایسے ہی مستقبل کے لئے کام کریں گے۔

پی پی اے ایف خواتین کی بااختیاری کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے فعال شرکت کرکے ترقیاتی عمل میں شامل ہے۔ وہ پاکستان بھر کے 130 اضلاع میں اپنی شراکتی تنظیموں کے ذریعے خواتین کی مساوی شمولیت پر کام کررہا ہے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.