Latest news

کراچی کے علاقے ڈیفینس سے اغوا ہونے والی دعا منگی بخیریت گھر پہنچ گئیں

کراچی کے علاقے ڈیفینس سے 30 نومبر کو اغوا کی جانے والی طالبہ دعا منگی بخیریت گھر پہنچ گئی ہیں۔ دعا کے ماموں اعجاز منگی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ دعا گھر پہنچ چکی ہیں لیکن اس وقت ان کی طبیعت ناساز ہے اس لیے وہ آرام کر رہی ہیں۔

انھوں نے مزید تفصیلات بتانے سے معذرت کی اور کہا کہ خاندان کا مشاورتی عمل جاری ہے جس کے بعد باضابطہ طور پر تفصیلات سے آگاہ کیا جائے گا۔

اس سے قبل بعض مقامی نشریاتی اداروں نے یہ اطلاعات دی تھیں کہ دعا کے اہل خانہ سے تاوان طلب کیا گیا ہے تاہم دعا کا خاندان اس خبر کو مسترد کرتا رہا ہے۔

یاد رہے پولیس نے بھی دعا منگی کے اغوا کو بسمہ کیس سے مشابہت دی تھی۔ رواں برس بسمہ کو کراچی کے علاقے ڈیفینس میں واقع ایک کیفے سے واپسی پر اغوا کیا گیا تھا اور بعد میں ان کی واپسی تاوان کے بدلے ہوئی تھی جس کی تصدیق خود پولیس نے کی تھی۔

ایس ایس پی جنوبی شیراز احمد اور ڈی آئی جی شرجیل کھرل سے بارہا رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تاہم ان سے رابطہ ممکن نہیں ہوسکا۔

 

اس واقعے کا وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بھی نوٹس لیا تھا لیکن ابھی تک حکومت کی جانب سے بھی کوئی وضاحت جاری نہیں کی گئی ہے۔

دعا منگی کا اغوا کیسے ہوا؟

پولیس حکام کے مطابق یہ واقعہ ساحل سمندر کے قریب درخشاں تھانے کی حدود میں پیش آیا تھا جہاں متعدد چائے خانے اور ریستوران ہیں اور شام کو شہر بھر سے نوجوان یہاں جمع ہوتے ہیں۔

درخشاں پولیس کے مطابق سنیچر کی شب آٹھ بجے کے قریب خیابان بخاری میں چائے کے ڈھابے کے قریب دعا منگی اپنے دوست حارث سومرو کے ساتھ واک کر رہی تھیں جب چار سے پانچ افراد نے انھیں زبردستی پکڑ کر گرے رنگ کی گاڑی میں بٹھایا اور مزاحمت کرنے پر حارث کو گولی مار کر زخمی کر دیا۔

پولیس نے زخمی حارث کے والد عبدالفتح سومرو کے مدعیت میں اقدام قتل اور اغوا کے الزامات میں مقدمہ درج کر لیا تھا۔

ذاتی رنجش یا اغوا برائے تاوان

کلفٹن پولیس نے جائے وقوعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی حاصل کر لی تھی۔ ایس ایس پی شیراز مہر کے مطابق دعا اور ان کے دوست حارث سومرو کے ٹیلیفون کی جیو فینسنگ بھی کی گئی۔

دعا منگی سندھ کے نامور کالم نگار اور شاعر اعجاز منگی کی بھانجی ہیں۔ اعجاز منگی نے  بتایا تھا ’خیابان بخاری پر شہر کے اے لیول کے بچے جمع ہوتے ہیں جہاں چائے اور پراٹھے پر گپ شپ کی جاتی ہے۔‘

’دعا اپنی بڑی بہن کے ساتھ وہاں جاتی رہی ہیں، واقعے والے روز بھی وہ بہن کے ساتھ گئی تھیں لیکن بڑی بہن جلدی آ گئی۔ دعا نے کہا کہ وہ بعد میں آئے گی، ایک ڈیڑھ گھنٹے بعد، پھر دعا کی دوست کا ٹیلیفون آیا کہ اس کو اغوا کر لیا گیا ہے۔‘


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.