اہم خبرِیں

پی ٹی اے نے پب جی گیم پر پابندی ختم کردی

اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے پب جی گیم پر سے پابندی ختم کرنے کا اعلان کردیا۔

میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے حکام سے پب جی کے قانون نمائندوں کی ملاقات ہوئی جس میں گیم پر بندش کے حوالے سے مختلف امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔بملاقات میں ہونے والی طویل مشاورت کے بعد پی ٹی اے نے آن لائن گیم ’پلیئرز ان نان بیٹل گراؤنڈ‘ (پب جی) پر عائد ہونے والی پابندی ختم کرنے کا اعلان کیا۔

خیال رہے پاکستان ٹیلی کمیونیکشن اتھارٹی کی جانب سے 24 جولائی 2020 کو جاری ہونے والے اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ آن لائن گیم ’پلیئرز ان نان بیٹل گراؤنڈ (پب جی) پر عائد ہونے والی پابندی برقرار رہے گی، لاہور ہائی کورٹ کی ہدایت پر 9 جولائی کو پی ٹی اے میں ہونے والی تفصیلی سماعت میں گیم کی بندش کا فیصلہ کیا گیا۔

ایک روز بعد اسلام آباد ہائی کورٹ نے آن لائن گیم پر سے پابندی ختم کرنے کا حکم جاری کیا جس کے بعد پی ٹی اے نے سروسز دوبارہ بحال کردی تھیں۔ بعد ازاں پی ٹی اے نے 27 جولائی کو ایک بار پھر ملک بھر میں پب جی گیم کی سروس پر پابندی کی۔ ی ٹی اے کے ڈائریکٹر جنرل ویب ڈیپارٹمنٹ کا کہنا تھا کہ خود کشی کے واقعے کی تحقیقاتی رپورٹ آنے تک پب جی کی سروس بند رہے گی۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اراکین کو بریفنگ دیتے ہوئے ڈی جی ویب پی ٹی اے کا کہنا تھا کہ عدالت نے پب جی کھولنے کا حکم نہیں دیا بلکہ تفصیلی رپورٹ جمع کرانے تک سروس پر سے پابندی اٹھانے کی بات کی۔ واضح رہے تین نوجوانوں‌ کی خودکشی کے بعد پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے یکم جولائی کو ملک بھر میں موبائل پر کھیلے جانے والے گیم پب جی پر عارضی پابندی عائد کی تھی۔

یاد رہے کہ آن لائن گیم پب جی کی وجہ سے اب تک دنیا بھر کے کئی نوجوان اپنی زندگیوں کا خاتمہ کرچکے ہیں، اس گیم میں دو ٹیمیں بنائی جاتی ہیں اور دونوں کھلاڑیوں ہتھیاروں کی مدد سے ایک دوسرے کو قتل کرتے ہیں۔ ماہر نفسیات کا یہ بھی کہنا تھا کہ گیم کے باعث نوجوانوں ذہنی تناؤ کا شکار ہورہے ہیں جبکہ اُن میں تشدد کا عنصر بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے ۔

اس گیم میں دو ٹیموں کا آپس میں مقابلہ ہوتا ہے، ایک کھلاڑی سے لے کر 100 کھلاڑیوں تک کی ٹیم ہوتی ہے جو انٹرنیٹ کے ذریعے ایک دوسرے سے جڑتی ہیں۔ دونوں ٹیموں کے کھلاڑی جہاز سے زمین پر اتر کر پہلے اسلحہ تلاش کرتے ہیں اور پھر سامنے والے کھلاڑی کو فائرنگ کر کے مارتے ہیں۔ آخر میں زندہ رہنے والے فاتح کھلاڑی کو اعزاز میں ’چکن ڈنر‘ دیا جاتا ہے۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.