اہم خبرِیں
اب کشمیر جلد آزاد ہوگا، وزیراعظم لبنان، دھماکے میں ہلاکتیں 100 سے تجاوز کر گئیں تعلیمی ادارے 15 ستمبر سے کھولنے کا فیصلہ برقرار پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان پہلا ٹیسٹ میچ بدھ کو شروع ہوگا بھارت،سخت سیکیورٹی میں بابری مسجد کی جگہ مندر کا افتتاح مقبوضہ کشمیر میں بھارتی تسلط کے خلاف دنیا بھر میں’’یوم استحصال... نواز شریف کے وارنٹ گرفتاری جاری اقوام متحدہ مقبوضہ کشمیر میں مردم شماری کرائے،مشعال ملک پی آئی اے جعلی لائسنس اسکینڈل، تحقیقات کا دائرہ وسیع کرونا کے باعث بچوں کا سکول نہ جانا پوری نسل کا بحران ہے، اقوام... بھارتی حکومت عالمی دہشت گردوں کی سرپرست بھارت کسی خوش فہمی میں نہ رہے یوم استحصال اورکشمیر کی آزادی 5اگست کا المیہ اور اہلِ کشمیر کاردعمل مودی نے مقبوضہ کشمیر کی معیشت تباہ کردی، وزیراعظم عمران خان آرمی چیف کی سابق فوجی قیادت سے ملاقات پاکستان کا نیا نقشہ جاری، مقبوضہ کشمیر پاکستان کا حصہ قرار آرٹیکل 149 سمجھ سے بالاتر ہے، سندھ حکومت افراط زر بڑھ کر 9.3 فیصد ہو گیا ٹھٹھہ، نوجوان کی 11 موٹر سائیکلوں کے اوپر سے طویل چھلانگ

پنجاب میں پبلک سیکٹر کمپنیز بد عنوانی کا سر چشمہ

لاہور: پنجاب کی پبلک سیکٹر کمپنیز میں غیر قانونی بھرتیوں اور دیگر ذرائع سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچانے کا انکشاف ہوا ہے۔

ذرائع  کو موصول دستاویزات کے مطابق پنجاب تھرمل پارو کمپنی میں شہباز شریف کے منظور نظر افراد کی تعیناتیوں کے علاوہ 83 کروڑ 23 لاکھ 5 ہزار روپے کی کرپشن کی گئی۔

لیگی رہنما خواجہ احمد حسان کو بورڈ آف ڈائریکٹر اور ایچ آر کمیٹی میں غیر قانونی طریقہ سے لگایا گیا جب کہ اعلی تعلیم یافتہ اورتجربہ کار افراد کو نظر انداز کر کہ غیر قانونی طور ہر بھرتیاں کی گئی ہیں۔

کمپنی سی ای او کو غیر قانونی طور پر گرانٹ دی گئی جس سے قومی خزانے کو 39 لاکھ 24 ہزار کا نقصان ہوا۔ آفیسرز کو بونس کی مد میں غیر قانونی ادائیگیوں سے 1کروڑ 41 لاکھ 83 ہزار روپے کا نقصان خزانے کو برداشت کرنا پڑا۔

نیسپاک کی جانب سے سب کنسلٹنٹ کی تعیناتیوں میں بے ضابطگیاں ہوئی جس سے 55 کروڑ 5 لاکھ 60 ہزار روپے کانقصان ہوا۔ دستاویزات سے پتا چلا کہ ٹیسٹنگ سروس میں تعیناتیوں کی مد میں 3 کروڑ 88 لاکھ 6 ہزار روپے کی بے ضابطگیاں سامنے آئیں۔

فیسکو کو ایچ ٹی ایل ٹی کی لائنز کی منتقلی کی رقم میں بے ضابطگیوں سے قومی خزانے کو 25 لاکھ 37 ہزار کا نقصان ہوا۔ پبلک فنڈز کو کمپنی کے کمرشل اکاونٹ میں غیر قانونی پر پر رکھا گیا جسکا منافع حکومت کو نہیں دیا گیا۔ 95 کروڑ کی رقم پر 5 کروڑ 81 لاکھ 39 ہزار قومی خزانے میں جمع نہیں کروایا گیا۔

مذکورہ کمپنی کےلیے غیر ضروری لگژری گاڑیوں اور انشورنس کی مد میں 4 کروڑ 78 لاکھ 9 ہزار کا نقصان ہوا۔ ای پی سی کنٹریکٹ کے زریعے غیر ضروری خرچہ کرتے ہوئے لیپ ٹاپ کا حصول کیا گیا جس سے قومی خزانے پر 26 لاکھ 60 ہزار روپے کا بوجھ پڑا۔

ذرائع  کو ملنی والی دستاویزات سے معلوم ہوا کہ جیو ٹیکنیکل انوسٹی گیشن کی رقم واپس نہیں لی گئی جس سے خزانے کو 4 کروڑ کا نقصان ہوا۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.