اہم خبرِیں
کور کمانڈر کانفرنس،ایل او سی کی صورت حال پر غور جشن آزادی کو شایان شان طریقے سے منایا جائے، وزیراعظم پاکستان کی برآمدات میں ریکارڈ اضافہ دس کروڑ سال پرانی چیونٹی دریافت عالمی شہرت یافتہ شاعر راحت اندوری انتقال کرگئے نیوزی لینڈ نے پاکستان کیخلاف سیریز کی تصدیق کردی نائجیریا، توہین رسالت کے جرم میں سزائے موت مریم نوازنیب پیشی، حکومت کا موقف سامنے آگیا کارکنوں اور پولیس تصادم کے بعد مریم نواز کا بیان سامنے آگیا روس نے کورونا وائرس ویکسین تیار کر لی، ولادی میر پیوٹن بیروت دھماکے کی پیشگی اطلاع حکومت کو تھی نیب نے ن لیگی رہنماوَں کے خلاف بڑا فیصلہ کرلیا مریم نواز کی نیب پیشی منسوخ شریف فیملی کے خلاف مقدمات صاف ہیں، فواد چوہدری کورونا کی فتح شکست میں نہ بدل جائے، اسد عمر ٹائیگر فورس تشدد، ویڈیو وائرل اسمارٹ لاک ڈاوَن کا فارمولا کامیاب رہا، وزیراعظم مریخ پر پانی سے بھرے سمندرکبھی نہیں تھے، سائنسدان گلوکار بلال سعید نے مسجد میں گانے کی ریکارڈنگ پر معافی مانگ لی ایران پر اسلحے کی پابندی میں توسیع کی جائے، عرب ممالک

پاکستان کے خلاف جھوٹی خبریں پھیلانے والا بھارتی نیٹ ورک بے نقاب

اسلام آباد : پاکستان کے خلاف کام کرنے اورجھوٹی خبریں پھیلانے والا بھارتی نیٹ ورک بے نقاب ہوگیا، یورپ کی این جی او کا رپورٹ میں کہنا ہے کہ بھارتی نیٹ ورک نے پاکستان مخالف پروپیگنڈے کے لئے 265 جعلی میڈیا آؤٹ لیٹس بنائے۔

تفصیلات کے مطابق یورپی این جی او نے پاکستان کیخلاف کام کرنے والےبھارتی نیٹ ورک کا بھانڈاپھوڑدیا، این جی کی رپورٹ میں بتایا گیا جعلی میڈیا آؤٹ لیٹس بنانے کا مقصد پاکستان کے خلاف یورپی یونین،اقوام متحدہ سمیت دیگرعالمی اداروں اورتنظیموں کوگمراہ کرنا اوران اداروں پراثراندازہونا تھا، جعلی ویب سائٹس پاکستان مخالف موادپھیلارہی تھیں۔

رپورٹ کے مطابق یورپ کے جعلی میگزین نے یورپی پارلیمنٹ سے منسلک ہونے کا جھوٹا دعوی کرتے ہوئے پاکستان کیخلاف مواد شائع کیا، جعلی میڈیا آؤٹ لیٹس نے پاکستان مخالف مواددنیا کے نمایاں تھنک ٹینکس،این جی اوزاورکمپنیوں تک پھیلایا جبکہ ایک جعلی میڈیا آؤٹ لیٹ کا پتا دہلی میں ایک بزنس کمپنی کا نکلا۔

تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ ویب سائٹ نے بہت بڑی تعداد میں ایسے آرٹیکل یا آرا پرمبنی مضامین شائع کیے، جو پاکستان میں اقلیتوں سے متعلق تھے اور اس بات سے بھی پردہ اٹھایا گیا کہ یہ نیوز آؤٹ لیٹ بھارتی اسٹیک ہولڈرز چلا رہے ہیں، جن کے تعلقات تھنک ٹینکس، غیر سرکاری تنظیموں(این جی او) اور سری وستاوا گروپ سے تعلق رکھنے والی کمپنیوں کے ایک بڑے گروپ سے ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ان جعلی ویب سائٹس کے تجزیے سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ زیادہ تر ویب سائٹس کے نام ایسے قدیم اخباروں کے نام پر رکھے گئے جو اب شائع نہیں ہوتے، ان جعلی خبروں کے مراکز کا مقصد مخصوص مواقعوں اور مظاہروں کی کوریج کر کے بین الاقوامی اداروں اور منتخب نمائندوں پر اثر انداز ہونا ہے۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.