Latest news

نمرتا ہلاکت کیس میں کئی روز بعد اہم موڑ آ گیا

کراچی : نمرتا ہلاکت کیس میں کئی روز بعد اہم موڑ آ گیا۔تفصیلات کے مطابق نمرتا کماری کی ڈی این اے رپورٹ سامنے آ گئی ہے۔نمرتا کے سیمپلز اورکپڑوں پر ایک مرد کے ڈی این اے کے نشانات ملے ہیں۔نمرتا کے جسم اور کپڑوں پر ملنے والے ڈی این اے دو پارسل کی صورت میں بھجوائے گئے تھے۔۔ایک پارسل میں نمرتا کے جسم کے اجزاء تھے جب کہ دوسرے پارسل میں نمرتا کی شلوار قمیض اور د وپٹہ شامل ہیں۔

لاڑکانہ پولیس کا کہنا ہے کہ نمرتا کی ڈی این اے رپورٹ ہمیں موصول ہو گئی ہے جو اب جوڈیشل کمیشن کوپیش کی جائے گی۔ ایس ایس پی مسعود بنگس کا کہنا ہے کہ نمرتا کماری کی ڈی این اے رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے گی۔گذشتہ ہفتے نمرتا ہلاکت معاملے پر جوڈیشل انکوائری کے سربراہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اقبال حسین میتلو نے ایس ایس پی لاڑکانہ کے ہمراہ بی بی آصفہ ڈینٹل کالیج کے ہاسٹل کا دورہ کیا تھا۔

جج اقبال حسین میتلو نے بی بی آصفہ ڈینٹل کالیج کے ہاسٹل میں نمرتا کے کمرہ نمبر 47 کا دورہ کیا جہاں نمرتا کی نعش 16 ستمبر کو ملی تھی، اس موقع پر ایس ایس پی لاڑکانہ مسعود بنگش کی جانب سے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کو مکمل بریفنگ بھی دی گئی۔ تاہم نمرتا کی ہلاکت کے بعد پولیس کی جانب سے کمرے کو سیل کردیا گیا تھا، دوسری جانب جوڈیشل انکوائری کی جانب سے نمرتا ہلاکت معاملے پر ابتک 41 افراد کے بیانات قلمبند کر لیے گئے ذرائع کا کہنا ہے کہ انکوائری تقریبا مکمل ہوچکی ہے جلد سندھ ہائی کورٹ کے رجسٹرار کو رپورٹ بھجوا دی جائے گی تاہم علی شان میمن اور مہران ابڑو تاحال پولیس کی حراست میں ہی ہیں اور دونوں طالبعلموں کے ورثہ مکمل طور پر خاموش ہیں۔

خیال رہے کہ نمرتا ہلاکت کیس میں مہران ابڑو کا کردار بہت اہم ہے۔

 

 


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.