اہم خبرِیں
کور کمانڈر کانفرنس،ایل او سی کی صورت حال پر غور جشن آزادی کو شایان شان طریقے سے منایا جائے، وزیراعظم پاکستان کی برآمدات میں ریکارڈ اضافہ دس کروڑ سال پرانی چیونٹی دریافت عالمی شہرت یافتہ شاعر راحت اندوری انتقال کرگئے نیوزی لینڈ نے پاکستان کیخلاف سیریز کی تصدیق کردی نائجیریا، توہین رسالت کے جرم میں سزائے موت مریم نوازنیب پیشی، حکومت کا موقف سامنے آگیا کارکنوں اور پولیس تصادم کے بعد مریم نواز کا بیان سامنے آگیا روس نے کورونا وائرس ویکسین تیار کر لی، ولادی میر پیوٹن بیروت دھماکے کی پیشگی اطلاع حکومت کو تھی نیب نے ن لیگی رہنماوَں کے خلاف بڑا فیصلہ کرلیا مریم نواز کی نیب پیشی منسوخ شریف فیملی کے خلاف مقدمات صاف ہیں، فواد چوہدری کورونا کی فتح شکست میں نہ بدل جائے، اسد عمر ٹائیگر فورس تشدد، ویڈیو وائرل اسمارٹ لاک ڈاوَن کا فارمولا کامیاب رہا، وزیراعظم مریخ پر پانی سے بھرے سمندرکبھی نہیں تھے، سائنسدان گلوکار بلال سعید نے مسجد میں گانے کی ریکارڈنگ پر معافی مانگ لی ایران پر اسلحے کی پابندی میں توسیع کی جائے، عرب ممالک

’مولانا فضل الرحمان سے کوئی معاہدہ نہیں ہوا

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اقتدار سنبھالنے کے تین ماہ بعد ہی فیصلہ کر لیا تھا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کو ہی آرمی چیف رکھا جائے گا کیونکہ میں نے ان سے زیادہ متوازن اور جمہوری آرمی چیف نہیں دیکھا۔

سینئر صحافی ارشاد بھٹی نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں وزیراعظم عمران خان سے ہونے والی ملاقات کا احوال بتاتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نے کہا ہے کہ کرتارپور راہدرای منصوبے، ملکی اندرونی اور بیرونی سیکیورٹی اور خارجہ محاذ پر جو کامیابیاں ملی ہیں وہ آرمی چیف کے بغیر ممکن نہیں تھیں۔

وزیراعظم نے آرمی چیف پر فخر کرتے ہوئے بتایا کہ میں اپنی زندگی کے تجربے کی روشنی میں اگر کسی کو بہترین آرمی چیف کہوں تو وہ جنرل قمر جاوید باجوہ ہیں۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو سے متعلق اپنے بیان پر عمران خان کا کہنا تھا کہ دس سال سے بلاول سندھ میں سیاست کر رہے ہیں مگر وہاں گورننس کا برا حال ہے۔

اس ضمن میں ان کا مزید کہنا تھا کہ سندھ میں کرنٹ لگنے سے لوگوں کی ہلاکت ہوئی جبکہ بلاول کہتے پھر رہے تھے کہ بارش آتی ہے تو پانی آتا ہے، زیادہ بارش آتی ہے تو زیادہ پانی آتا ہے۔

مولانا فضل الرحمان کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ سربراہ جے یو آئی سے کوئی معاہدہ نہیں ہوا، ان کا پلان اے ، پلان زیڈ تک پہنچ چکا ہے۔

الیکشن کمیشن میں فارنفنڈنگ کیس کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ یہ کیس چل رہا ہے جس پر ہماری ٹیم کام کر رہی ہے اس سے مجھے کوئی خطرہ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ حزب اختلاف کو میرا چہرہ نہیں پسند مگر انہیں مجھے مزید ساڑھے تین سال برداشت کرنا ہو گا۔

وزیراعظم نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ جب میں جاؤں تو پاکستان سرمایہ کاری کا مرکز بن چکا ہو، چین کی مدد سے زراعت میں انقلابی تبدیلیاں آچکی ہوں اور ملک کی صنعت کا پہیہ چل رہی ہو۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہمارا سارا دھیان جزا و سزا اور غریب کی حالت بہتر بنانے پر ہو گا، حکومت کو اس دھرنے کا فائدہ ہوا ہے، ہم  اس ملک کو مافیہ کے حوالے نہیں ہونے دیں گے۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.