Latest news

مریم نواز کی ضمانت کیا کسی ڈیل کا نتیجہ؟

لاہور ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے چوہدری شوگر ملز کیس میں مسلم لیگ کی نائب صدر اور سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کی درخواستِ ضمانت منظور کرلی۔

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے فیصلہ سنایا، جو 31 اکتوبر کو محفوظ کیا گیا تھا۔

 عدالتِ عالیہ نے انہیں ایک ایک کروڑ روپے مالیت کے دو مچلکے اور پاسپورٹ بھی جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔

مریم نواز نے 24 اکتوبر کو چوہدری شوگر ملز کیس میں ضمانت کے لیے متفرق درخواست دائر کی تھی۔

وہ اپنے چچا زاد بھائی یوسف عباس کے ہمراہ چوہدری شوگر ملز ریفرنس میں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں تھیں۔ قومی احتساب بیورو (نیب) نے دونوں کو آٹھ اگست کو گرفتار کیا تھا۔

مریم نواز کے عدالتی ریمانڈ میں بھی کئی مرتبہ توسیع کی گئی۔ آخری مرتبہ جب 25 اکتوبر کو انہیں عدالت میں پیش کیا گیا تھا تو آٹھ نومبر تک ان کے عدالتی ریمانڈ میں توسیع کی گئی تھی۔

ضمانت کے حوالے سے عدالت عالیہ کے تحریری فیصلہ میں کہا گیا کہ ’ناصر عبداللہ لوتھا کا بیان ملزمہ کی عدم موجودگی میں جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے ریکارڈ کیا گیا۔ یہ بیان وزارتِ خارجہ سے تصدیق شدہ بھی نہیں تھا جبکہ پراسیکیوشن نے دیگر غیر ملکیوں کے بیانات بھی ریکارڈ نہیں کیے۔‘

عدالت عالیہ نے قرار دیا کہ ’ملزمہ پر دو ارب روپے کی منی لانڈرنگ کا الزام لگایا گیا ہے، ناصر عبداللہ لوتھا نے شیئرز کے لیے رقم بھیجی جبکہ چوہدری شوگر ملز کو نامزد نہیں کیا گیا تھا۔ چوہدری شوگر ملز کے مختلف اکاؤنٹس رقم کی منتقلی کے لیے استعمال ہوتے رہے جبکہ پاناما پیپرز میں چوہدری شوگر ملز مرکزی مدعا نہیں رہا۔‘

تحریری فیصلے میں مزید کہا گیا: ’مریم نواز کی جانب سے دائر ضمانت کی درخواست میں یہ موقف بھی اپنایا گیا کہ ان کے والد کی طبیعت خراب ہے اور وہ ان کی دیکھ بھال کے لیے ان کے ساتھ رہنا چاہتی ہیں۔‘

مریم نواز کی ضمانت پر مسلم لیگ ن کی قیادت نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اس فیصلے کو خوش آئند قرار دیا ہے جبکہ کارکنوں نے بھی اپنی رہنما کی ضمانت پر جوش و جذبے کا اظہار کیا ہے۔

مسلم لیگ دھرنے میں جائے گی یا نہیں؟

مسلم لیگ ن کی قیادت کا ایک اہم اجلاس آج میاں شہباز شریف کی صدارت میں ان کی رہائش گاہ پر منعقد ہوا، جس میں جمعیت علمائے اسلام ف کے آزادی مارچ کو دھرنے میں تبدیل کرنے کی تجاویز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے مرکزی سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے کہا کہ شہباز شریف اجلاس میں شمولیت کے باعث اسلام آباد میں ہونے والی اپوزیشن جماعتوں کی  آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی)، جو مولانا فضل الرحمٰن نے بلائی تھی، میں شریک نہیں ہوسکے۔

جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا مسلم لیگ ن، جے یو آئی ف کے آزادی مارچ کو دھرنے میں تبدیل کرنے پر متفق ہے؟ اور اس میں شریک ہوگی؟ تو انہوں نے جواب دیا: ’مسلم لیگ ن جمہوریت پسند جماعت ہے اور کسی غیر جمہوری عمل کا حصہ نہیں بنے گی، تاہم ہم آئینی دائرے میں سیاسی جدوجہد، وزیراعظم کے استعفے اور  نئے انتخابات کے مطالبے پر قائم ہیں اور اس حوالے سے اجلاس میں جو متفقہ تجاویز طے کی گئی ہیں، وہ رہبر کمیٹی کے سامنے رکھی جائیں گی، جو ابھی میڈیا کے سامنے نہیں بتاسکتے۔‘

انہوں نے نام لیے بغیر سینیئر صحافی طلعت حسین کی جانب سے علاج کے لیے میاں نواز شریف کے بیرون ملک جانے سے متعلق ٹویٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’قائد مسلم لیگ ن کسی کی ٹویٹ پر بیرونِ ملک جانے یا نہ جانے کا فیصلہ نہیں کریں گے بلکہ معالجین کی ٹیم جو سفارشات دے گی ان پر عمل درآمد ضرور کیا جائے گا۔‘

کیا ن لیگی قیادت کو ریلیف ڈیل کا نتیجہ ہے؟

مریم نواز کی ضمانت کے بعد یہ تاثر بھی ابھرا ہے کہ شاید آزادی مارچ کے دباؤ پر مسلم لیگ ن کی قیادت کو ضمانتیں ملنا شروع ہوئیں۔ پہلے نواز شریف، پھر کیپٹن (ر) صفدر اور اب مریم نواز کو بھی ضمانت مل گئی۔

انڈپینڈنٹ اردو کے نامہ نگار ارشد چوہدری سے بات کرتے ہوئے سینیئر صحافی نوید چوہدری نے کہا کہ ’مسلم لیگ ن کے رویے سے اندازہ ہوتا ہے کہ لیگی قیادت کو ریلیف کسی ڈیل کے نتیجے میں مل رہا ہے کیونکہ آزادی مارچ شروع ہوتے ہی لیگی قیادت کو ضمانتیں ملیں اور پارٹی رہنما بھی آزادی مارچ میں موثر کردار ادا کرتے دکھائی نہیں دیتے۔‘

انہوں نے کہا: ’جس طرح آج اجلاس کے دوران احسن اقبال نے گفتگو کی، اس سے تاثر ملتا ہے کہ ن لیگ دھرنے میں شرکت سے کترا رہی ہے۔ شہباز شریف بھی  اے پی سی کے اجلاس میں شریک نہیں ہوئے بلکہ لاہور میں پارٹی اجلاس بلالیا، جس میں کوئی واضح فیصلہ نہیں کیا گیا۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’دوسرا پہلو یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حکومت کی جانب سے ن لیگی قیادت کو ریلیف دے کر یہ تاثر قائم کرنے کی کوشش ہوسکتی ہے کہ انہوں نے ڈیل کی ہے۔‘

نوید چوہدری کے مطابق: ’ماضی کی روایات کو مدِنظر رکھا جائے تو مسلم لیگ ن کی قیادت نے کئی بار ڈیل کے ذریعے معاملات حل کیے، اس لیے اس بار بھی میاں نواز شریف کے بیرون ملک جانے اور ضمانتیں ملنے پر بھی ڈیل کے تاثر کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا۔‘

ساتھ ہی انہوں نے خیال ظاہر کیا کہ ’اگر اس موقع پر ن لیگی قیادت بیرونِ ملک روانہ ہوتی ہے تو پارٹی کو ناقابلِ تلافی نقصان ہوگا، اس لیے مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کو مولانا فضل الرحمٰن کا بھرپور ساتھ دینا چاہیے۔‘

دوسری جانب مسلم لیگ ن کے ذرائع کے مطابق مریم نواز کو ضمانت ملنے کے بعد ان کے اسلام آباد میں آزادی مارچ میں شریک ہوکر خطاب کرنے کی تجاویز پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

مریم نواز  اِن دنوں جیل کی بجائے اپنے والد کے ساتھ سروسز ہسپتال میں موجود ہیں، جہاں جیل اہلکار بھی موجود ہیں، تاہم عدالتی روبکار ملنے پر جیل اہلکار ہسپتال سے ہٹا لیے جائیں گے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.