Latest news

مریم نواز کی ضمانت منسوخی کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر

اسلام آباد: قومی احتساب بیورو (نیب) نیب نے مسلم لیگ نواز کی نائب صدر اور سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کی ضمانت منسوخی کے لئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی۔

درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ مریم نواز کی ضمانت مسترد کی جائے اور لاہور ہائی کورٹ کے 31 اکتوبر کے فیصلے کو کالعدم قراردیا جائے۔

نیب نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے سپریم کورٹ کے احکامات کے برخلاف فیصلہ دیا۔

نیب کا کہنا ہے کہ ہائی کورٹ نے ضمانت کے کیس میں شواہد پر آبزرویشنز دیں جن کے باعث ٹرائل متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

31 اکتوبر کو لاہور ہائی کورٹ نے مریم نواز کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ کیا تھا جسے چار نومبر کو سنایا گیا۔

عدالت نے مسلم لیگ ن کی مرکزی نائب صدر کی درخواست پر ان کی ضمانت منظور کرلی تھی۔

مریم نواز نے چوہدری شوگر ملز کیس میں ضمانت کے لئے عدالت عالیہ سے رجوع کیا تھا۔

نیب نے اکتوبر 2018 میں تفتیش سے پتا چلایا کہ چوہدری شوگر ملز میں نواز شریف، مریم نواز، شہباز شریف اور ان کے بھائی عباس شریف کے اہل خانہ کے علاوہ کچھ غیر ملکی بھی شراکت دار ہیں۔

ذرائع کے مطابق چوہدری شوگر ملز میں سال 2001 سے 2017 کے درمیان غیر ملکیوں کے نام پر اربوں روپے کی بھاری سرمایہ کاری کی گئی اور انہیں حصص دیے گئے۔

بعد ازاں وہی حصص مریم نواز، حسین نواز اور نواز شریف کو بغیر کسی ادائیگی کے واپس کیے گئے۔

اس ضمن میں نیب نے سب سے پہلے مریم نواز کو 31 جولائی کو تفتیش کے لیے طلب کیا تھا اور انہوں نے 45 منٹ تک نیب ٹیم کے سامنے اپنا بیان ریکارڈ کروایا تھا۔

رپورٹ کے مطابق یوسف عباس اور مریم نواز نے تحقیقات میں شمولیت اختیار کی تھی لیکن سرمایہ کاری کرنے والے غیر ملکیوں کو پہچاننے اور رقم کے ذرائع بتانے سے قاصر رہے۔

اس پر نیب نے مریم نواز کو 8 اگست کو دوبارہ طلب کرتے ہوئے ان سے چوہدری شوگر ملز میں شراکت داری کی تفصیلات اور مالیاتی امور کی تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت کی تھی۔

بعد ازاں 8 اگست کو ہی قومی احتساب بیورو نے چوہدری شوگر ملز کیس میں مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کو گرفتار کر کے نیب ہیڈکوارٹرز منتقل کر دیا تھا۔

عدالت کی جانب سے مریم نواز کے جسمانی ریمانڈ میں متعدد بار توسیع کی گئی تھی، جس کے بعد ان کا جوڈیشل ریمانڈ دے دیا گیا۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.