اہم خبرِیں
نوجوانوں کے لیے انٹرن شپ پروگرام کا اعلان آصف علی زرداری کےخلاف چارج شیٹ جاری سینیٹ کمیٹی نے جسٹس رٹائرڈ جاوید اقبال کو طلب کرلیا نواز شریف نے احتساب عدالت کی کارروائی چیلنج کردی نواز شریف کواس حال میں پہنچانے والی مریم نواز ہے، شیخ رشید پاکستان کو کبھی تنہا نہیں چھوڑا، سعودی عرب حکومت کا پاکستانی واٹس ایپ بنانے کا منصوبہ اسٹاک ایکسچینج منفی ومثبت خبروں کی لپیٹ میں سائنسدانوں نے ’’سپر مِنی‘‘ پاور بینک تیار کرلیا بیکٹیریا کے نمونے لینے والابرقی کییپسول تیار صبا قمراوربلال سعید کی عبوری ضمانت منظور قومی ٹیم جارحانہ کرکٹ کھیلیں، انضمام الحق پاکستان کرکٹ ٹیم نے تمام ٹیموں کو پیچھے چھوڑ دیا بھارت کے یوم آزادی پر دنیا بھر میں یوم سیاہ منایا جا رہا ہے پاکستان قوم کوسلام محبت پیش کرتا ہوں، طیب اردگان آرمی چیف اور بل گیٹس میں ٹیلی فونک رابطہ پاکستان میں اقلیتوں کو عزت اوروقار دیا گیا ہے، فیاض الحسن چوہا... جوائنٹ ایکشن کمیٹی اسکول کھلوانے میں ناکام پروفیسر خالد مسعود گوندل کیلئے حکومت کا تمغہ حسن کارکردگی کا ا... یوم آزادی تقریب،184 شخصیات کیلئے پاکستان سول ایوارڈزکا اعلان

سینیٹ کمیٹی نے اقوام متحدہ سکیورٹی کونسل کا ترمیمی بل منظورکرلیا

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی اقوام متحدہ سکیورٹی کونسل ترمیمی بل منظور کرلیا۔

چیئرمین جاوید عباسی کی زیر صدارت سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کا اجلاس ہوا۔ اسپیشل سیکرٹری خارجہ نے اقوام متحدہ سکیورٹی کونسل ترمیمی بل پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ایف اے ٹی ایف کی ہدایات پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے، اقوام متحدہ سکیورٹی کونسل بل میں بعض نقائص کی نشاندہی کی گئی تھی، سکیورٹی کونسل ایکٹ میں ترمیم ایف اے ٹی ایف کی تجویز کردہ ہے، چھ اگست تک ایف اے ٹی ایف کو عملدرآمد رپورٹ بھجوانی ہے۔

فاروق نائیک نے کہا کہ اس ترمیم کے تحت وفاقی حکومت کو اپنے اختیارات کسی کو بھی تقویض کر سکتی ہے، میری تجویز ہے کہ اختیارات تقویض کرنے کیساتھ پاکستانی شخصیت یا ادارے کا نام شامل کیا جائے، چاہتے ہیں اختیارات کسی غیر پاکستانی کو نہ منتقل ہو سکیں۔ مسلم لیگ ن اور پی پی ارکان کے ساتھ ساتھ وفاقی حکومت نے بھی فاروق نائیک کی ترمیم کی حمایت کردی۔

حکام دفتر خارجہ نے کہا کہ کابینہ اس بات کا فیصلہ کرے گی کہ اختیارات کس کو دینا ہیں۔ سینیٹ قائمہ کمیٹی نے فاروق نائیک کی تجویز کردہ ترمیم سمیت سکیورٹی کونسل ترمیمی بل کو متفقہ طور پر منظور کرلیا۔ سینیٹ قائمہ کمیٹی میں انسداد دہشتگردی ترمیمی بل پر بھی بحث ہوئی۔ سیکرٹری داخلہ نے بتایا کہ بل کے تحت جرمانہ ایک کروڑ سے بڑھا کر پانچ کروڑ کر دیا گیا ہے اور دس سال تک سزا بھی تجویز کی گئی ہے۔ وزیرقانون فروغ نسیم نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف پاکستان کی تجویز کردہ ترامیم سے متفق ہے، ایف اے ٹی ایف کنسلٹنٹ نے بذریعہ ای میل ان ترمیم کو خوش آئند قرار دیا۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.