Latest news

حکومت نے عدالت میں نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی مخالفت کر دی

لاہور: سابق وزیراعظم نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے لئے درخواست پروفاقی حکومت اورنیب نے عدالت میں جواب جمع کرادیا، جس میں وفاقی حکومت نےنوازشریف کی درخواست کی مخالفت کردی۔

تفصیلات کے مطابق لاہور ہائی کورٹ میں سابق وزیراعظم نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی مشروط اجازت کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی ، جسٹس علی باقرنجفی کی سربراہی میں 2 رکنی بنچ درخواست پر سماعت کررہا ہے۔

نواز شریف کی درخواست پر وفاقی حکومت اورنیب نے جواب جمع کرادیا، ایڈیشنل اٹارنی جنرل اشتیاق چوہدری نے وفاقی حکومت کا جواب پیش کیا، وفاقی حکومت کا جواب 45 صفحات اور نیب کا جواب 4 صفحات پر مشتمل ہیں، تحریری جواب میں وفاقی حکومت نے نواز شریف کی درخواست کی مخالفت کردی اور کہا نواز شریف سزا یافتہ ہیں، بغیر شیورٹی بانڈ اجازت نہیں دی جاسکتی، استدعا ہے کہ شیورٹی بانڈ کی شرط لاگو رکھی جائے۔

وفاق نے جواب میں کہا نواز شریف کے خلاف مختلف عدالتوں میں کیسز زیر سماعت ہیں، حکومت نے نواز شریف کو 4 ہفتے ملک سے باہر جانے کی اجازت دی، نواز شریف کا نام نیب کے کہنے پر ای سی ایل میں ڈالا گیا، لاہور ہائی کورٹ کو اس درخواست کی سماعت کا اختیار نہیں، عدالت درخواست کو ناقابل سماعت قرار دے کر مسترد کرے۔

عدالت نے حکومت اور نیب کے جوابات کی نقول نواز شریف کے وکلاء کو دینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا نواز شریف کے وکلابھی جوابات پڑھ کر بحث کریں، جوابات کا جائزہ لے کر ہی سماعت آگے بڑھائی جائے گی۔

وفاقی حکومت اور نیب کے جوابات کے جائزے کے لئے سماعت ایک گھنٹے کے لئے ملتوی کردی گئی ، لاہور ہائی کورٹ کا 2رکنی بینچ ساڑھے3 بجے درخواست پر دوبارہ سماعت کرے گا۔

 

 

گذشتہ روز سماعت میں درخواست گزار کے وکیل نے کہا تھا نوازشریف کے بیرون ملک جانے کے لیے حکومت کی جانب سے عائد کردہ 4ہفتے کی پابندی اور سیکیورٹی بانڈ جمع کرانے کی شرط کو غیرقانونی قراردیا جائے۔

نواز شریف کے وکیل امجد پرویز ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ نوازشریف کے کچھ ٹیسٹ کرانے کےلیےکہا گیا، میڈیکل بورڈکاکہناہےٹیسٹ ملک سےباہرہو سکتےہیں، میڈیکل بورڈ نےنواز شریف کی حالت کو تشویشناک قراردیا جب کہ وفاقی حکومت کہتی ہے عدالت نے کچھ پابندیاں عائدکی ہیں، وفاقی حکومت کا عمل سیاسی بنیادوں پر ہےقانونی نہیں لہذا عدالت نام غیرمشروط طورپرای سی ایل سےنکالنےکاحکم دے۔

جس پر وفاقی حکومت کے وکیل نے درخواست کو ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے موقف اپنایا تھا کہ وفاقی حکومت نے نام ای سی ایل میں ڈالا لہذا اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا جائے۔

عدالت نے سوال کیا کہ یہ بتائیں نواز شریف کا نام کس نیب بیورو کے کہنے پر ڈالا گیا ؟ حکومتی وکیل کا کہنا تھا کہ یہ ابھی دیکھنا ہے کہ کس بیورو کے کہنے پر نام ڈالا گیا، نواز شریف کی ابھی سزا معطل ہوئی ہے بری نہیں ہوئے۔

یاد رہے ذیلی کمیٹی نے وفاقی کابینہ کے فیصلے پر قائم رہتے ہوئے نوازشریف کو بیرون ملک جانے کے لیے عائد کردہ شرائط کو برقرار رکھا تھا، کابینہ کی ذیلی کمیٹی کے سربراہ فروغ نسیم نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ نوازشریف کو4 ہفتے کے لیے بیرون ملک جانے کی ون ٹائم اجازت ہوگی جبکہ نوازشریف یا شہبازشریف 7 ارب روپے کے سیکیورٹی بانڈزجمع کرائیں گے۔

بعد ازاں مسلم لیگ ن نے حکومتی فیصلہ مسترد کرتے ہوئے نوازشریف کی بیرون ملک روانگی کے لئے حکومت کی انڈیمنٹی بانڈ کی شرط کے فیصلے کے خلاف درخواست دائر کردی تھی۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.