Latest news

توانائی کا شعبہ پاکستان کیلئے تباہی کا باعث بن سکتا ہے، مشیر خزانہ نے خبردار کر دیا

توانائی کا شعبہ پاکستان کیلئے تباہی کا باعث بن سکتا ہے، مشیر خزانہ نے خبردار کر دیا

اسلام آباد: مشیرخزانہ حفیظ شیخ نے خبردار کیا ہے کہ توانائی کا شعبہ پاکستان کیلیے تباہی کا باعث بن سکتا ہے، ہم اس شعبے کے گھمبیر مسائل کے حل میں ناکام رہےہیں۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کا بحران یہ ہے کہ ملک میں ڈالرز نہیں ہیں جبکہ قرض ڈالرز میں لیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ ہماری حکومت پر تنقید کرتےہیں کہ زیادہ قرض لیا، جب حکومت آئی تو جاری کھاتوں کا خسارہ تاریخ میں سب سےزیادہ تھا جس کا مطلب ہے کہ ملکی معیشت کو خطرہ لاحق ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ گزشتہ حکومت نے کرنسی کی قدر روکنے کیلیے ڈالڑز جھونکے، ہم نے بھی ٹھیک اقدامات نہ اٹھائے توناکام ہو جائیں گے۔

حفیظ شیخ نے کہا کہ معاشی استحکام کیلیےحکومت کام کررہی ہے، ہمیں طے کرنا ہےملک کو آگے لے کر جانا ہے یا نہیں، دنیا سے سبق سیکھیں کہ کچھ ممالک آگے کیوں نکل گئے، 72سالوں میں ایک بھی وزیراعظم مدت پوری نہیں کر سکا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ جو کچھ ہماری معیشت میں ہورہا ہے اس کے اثرات عوام پر پڑتےہیں، جب ہم استحکام کی بات کرتےہیں تو کچھ چیزوں کو نظر میں بھی رکھنا چاہیے،اگر ہم نے ترقی یافتہ ممالک کےساتھ کھڑے ہونا ہے تو عوام پر دھیان دینا ہو گا۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان کبھی بھی ٹیکس اکھٹا کرنے کے معاملے پر بہتر انداز میں کامیاب نہیں ہو سکا۔

مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ تمام مسائل کی جڑ30 ہزار ارب روپے کا قرض تھا، جو ماضی میں کیا جاتا ہے اس کے اثرات مستقبل پر بھی ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں ڈالر مصنوعی طور پر سستا رکھ کر ہر لگژری آئٹم درآمد کیا گیا اور عوام کو ٹوتھ پیسٹ تک امپورٹڈ استعمال کرایا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کوئی خوشی سے نہیں جاتا حالات مجبور کرتے ہیں، 2008 اور2013 کی حکومتیں بھی اس کے پاس گئیں، ہمارا قومی مسئلہ ہے کہ ہم آئی ایم ایف کے پاس جاتےہیں۔

اسٹیٹ بینک کے گورنر کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ رضا باقر پاکستان کیلیے کام کرنا چاہتے ہیں، پاکستان کو ان پر فخر ہوناچاہیے، وہ آئی ایم ایف کی نوکری ٹھکرا کر یہاں آئے ہیں جو ایم این اے یا سیکرٹری کی سفارش پر نہیں ملتی۔

انہوں نے کہا کہ دفاعی بجٹ منجمد کرنے کا فیصلہ کیا گیا جس کی پاک فوج کے سربراہ نے بھی حمایت کی، کیا ایسا فیصلہ کسی نے پہلے کیا؟

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم ہاؤس، ایوان صدر کے بجٹ اور کابینہ کی تنخواہوں میں کمی کی گئی، میں کئی حکومتوں میں رہا ہوں کوئی ایسے فیصلے نہیں کرتا۔

مشیر خزانہ نے بتایا کہ ملک میں گردشی قرضوں کا حجم ایک ہزار200 ارب روپے ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے جو اقدامات کیے اس سے برآمدات میں اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ موڈیز نے ہماری رینکنگ میں اضافہ کیا ہے جبکہ آئی ایم ایف نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ ہم نے اپنے تمام اہداف حاصل کیے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوم برگ نے پاکستان اسٹاک ایکس چینج کو بہترین قرار دیا جبکہ برطانوی میگزین کے مطابق 2020 میں پاکستان سیاحت کے لیے بہترین جگہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایشیئن ڈولیپمنٹ بینک (اے ڈی بی) نے پاکستان کی معاشی سمت کو درست قرار دیا ہے جبکہ عالمی بینک نے بھی کاروبار کے لیے وطن عزیز کو دنیا کے دس بہترین ممالک میں شامل کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آنے والے دنوں میں اشیاء کی قیمتوں میں مزید کمی ہو گی، رمضان سے پہلے عوام کی سہولت کے لئے راشن کارڈ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.