اہم خبرِیں
کور کمانڈر کانفرنس،ایل او سی کی صورت حال پر غور جشن آزادی کو شایان شان طریقے سے منایا جائے، وزیراعظم پاکستان کی برآمدات میں ریکارڈ اضافہ دس کروڑ سال پرانی چیونٹی دریافت عالمی شہرت یافتہ شاعر راحت اندوری انتقال کرگئے نیوزی لینڈ نے پاکستان کیخلاف سیریز کی تصدیق کردی نائجیریا، توہین رسالت کے جرم میں سزائے موت مریم نوازنیب پیشی، حکومت کا موقف سامنے آگیا کارکنوں اور پولیس تصادم کے بعد مریم نواز کا بیان سامنے آگیا روس نے کورونا وائرس ویکسین تیار کر لی، ولادی میر پیوٹن بیروت دھماکے کی پیشگی اطلاع حکومت کو تھی نیب نے ن لیگی رہنماوَں کے خلاف بڑا فیصلہ کرلیا مریم نواز کی نیب پیشی منسوخ شریف فیملی کے خلاف مقدمات صاف ہیں، فواد چوہدری کورونا کی فتح شکست میں نہ بدل جائے، اسد عمر ٹائیگر فورس تشدد، ویڈیو وائرل اسمارٹ لاک ڈاوَن کا فارمولا کامیاب رہا، وزیراعظم مریخ پر پانی سے بھرے سمندرکبھی نہیں تھے، سائنسدان گلوکار بلال سعید نے مسجد میں گانے کی ریکارڈنگ پر معافی مانگ لی ایران پر اسلحے کی پابندی میں توسیع کی جائے، عرب ممالک

آسٹریلیا میں ایک شخص کا باحجاب حاملہ مسلم خاتون پر بہیمانہ تشدد

:سڈنی

آسٹریلیا میں اسلام فوبیا میں مبتلا ایک جنونی شخص نے حاملہ مسلم خاتون پر حملہ کردیا اور بہیمانہ تشدد کا نشانہ بناکر زمین پر گرا دیا۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق آسٹریلیا کے ایک ریسٹورینٹ میں تین باحجاب خواتین بیٹھی ہوئی تھیں اور آپس میں گفتگو کرہی تھیں کہ اچانک ایک شخص ان کی ٹیبل پر آکر زور سے قہقہہ لگا کر حجاب اور مسلمانوں پر تنقید کرتا ہے۔

مذکورہ شخص کی جانب سے ہراساں کرنے کے باوجود تینوں خواتین مطمئن رہتی ہیں لیکن اچانک وہ شخص ان میں سے ایک خاتون کو زدوکوب کرتا ہے، گھونسوں اور لاتوں کی بارش کردیتا ہے۔ حاملہ خاتون درد سے کراہتے ہوئے زمین پر گر جاتی ہیں۔

اس دوران وہاں موجود دو مرد خواتین کی مدد کو آجاتے ہیں اور حملہ آور کو قابو میں کرکے پولیس کے حوالے کردیتے ہیں۔ پولیس نے حملے کو اسلامو فوبک قرار دیتے ہوئے 43 سالہ ملزم کیخلاف جسمانی تشدد اور نفرت آمیز رویے کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا ہے۔

زخمی خاتون کو اسپتال لے جایا گیا جہاں ابتدئی طبی امداد کے بعد 33 ہفتے کی حاملہ خاتون کو گھر جانے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ آسٹریلیا میں باحجاب مسلم خواتین پر حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جب کہ نیوزی لینڈ کی مساجد پر حملہ کرکے 50 نمازیوں کو شہید کرنے والا شخص بھی آسٹریلوی شہری ہی تھا۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.