Latest news

امریکہ اور طالبان کےد رمیان امن معاہدے پر دستخط آج ہوں گے، تیاریاں مکمل

امریکہ اور طالبان کےد رمیان امن معاہدے پر دستخط آج ہوں گے، تیاریاں مکمل

دوحا: امریکااورافغان طالبان کےدرمیان معاہدےپردستخط آج قطرمیں ہوں گے ، افغان امن معاہدہ پر دستخط کی تقریب کی تیاریاں مکمل کرلی گئیں ہیں ، امریکا، طالبان امن معاہدے کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جائےگا۔

تفصیلات کے مطابق دہائیوں بعد افغانستان میں قیام امن کیلئے کوششیں رنگ لے آئیں، دنیابھر کی نظریں قطر کے دارلحکومت دوحہ پر مرکوز ہیں ، امریکا اور طالبان کے درمیان افغان امن معاہدے پر دستخط آج ہوں گے ۔

افغان امن معاہدہ پر دستخط کی تقریب کی تیاریاں مکمل ہوگئیں ہیں ، معاہدےکی تقریب پاکستانی وقت کے مطابق شام ساڑھے5بجےہوگی ، طالبان اور امریکی حکام سمیت مختلف ممالک سے اعلی حکام امن دوحہ پہنچ گئے ہیں، طالبان کی جانب سے امن کونسل کے سربراہ ملا عبدالغنی برادر دستخط کریں گے۔

معاہدے کی تقریب میں 50 ممالک کے وزیرخارجہ شرکت کریں گے ، پاکستان سےوزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نمائندگی کررہےہیں جبکہ دستخط کےموقع پرامریکی سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو موجودہوں گے۔

امریکا، طالبان امن معاہدے کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کیاجائےگا اور تقریب کےبعدمعاہدےکی تفصیلات سے آگاہ کیا جائے گا۔

یاد رہے امریکی صدرکا کہناہے کہ امریکاطالبان ،افغان حکومت کےساتھ معاہدوں پردستخط کرنےوالاہے، معاہدے20سالہ جنگ کےخاتمے،افواج کےانخلاکاراستہ فراہم کرسکتےہیں،سیکریٹری دفاع مارک ایسپرکابل میں ہوں گے اور افغان حکومت کےساتھ مشترکہ اعلامیہ جاری کریں گے۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ نئےافغانستان میں پائیدارامن کیلئےمعاہدےاہم قدم ہیں، افغان عوام امن اورنئےمستقبل کےاس موقع سےفائدہ اٹھائیں، معاہدوں پرقائم رہےتوجنگ کےخاتمےکامضبوط راستہ حاصل ہوگا۔

افغان امن معاہدہ کیا ہے ؟


افغان طالبان کے ترجمان سہیل شاہین کے مطابق معاہدے کے تحت امریکا،طالبان کےقیدی رہا کرے گا اور ان کے پاس جو مقامی قیدی ہیں انھیں رہا کیا جائے گا، اسی طرح افغانستان میں جنگ بندی کافیصلہ بھی کیا جائےگا اور امریکااپنی فوج کوافغانستان سے نکالنے کے بارے میں ٹائم ٹیبل سےآگاہ کرےگا۔

معاہدے کے مطابق بین الاقوامی کانفرنس منعقد کی جائِےگی ، جس میں پھر مختلف مسائل پر بات چیت ہوگی اور افغانستان کے دستور، سکیورٹی اداروں کےکرداراوردیگر معاملات پر فیصلے کیے جائیں گے۔

امن معاہدے سےافغانستان میں امریکااورطالبان کےدرمیان بیس سالہ جنگ کاخاتمہ ممکن ہوسکےگا۔

واضح رہے افغان امن عمل کا آغاز گزشتہ سال فروری میں ہوا تھا، تاریخی ڈیل میں پاکستان کا اہم کردارہے جبکہ  امریکہ کی طرف سے زلمے خلیل زاداور طالبان کے ملا عبدالغنی برادر، ملا امیر خان متقی اور انس حقانی کا کردارنمایاں ہے۔

ڈیل کو تاریخی قرار دیا جارہاہے،امن معاہدے کے بعد امید ہے امریکہ اور طالبان کی براہِ راست جنگ ختم ہو جائے گی اور افغانستان کے پڑوسی ممالک پر بھی مثبت اثرات ہوں گے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.