اہم خبرِیں
نوجوانوں کے لیے انٹرن شپ پروگرام کا اعلان آصف علی زرداری کےخلاف چارج شیٹ جاری سینیٹ کمیٹی نے جسٹس رٹائرڈ جاوید اقبال کو طلب کرلیا نواز شریف نے احتساب عدالت کی کارروائی چیلنج کردی نواز شریف کواس حال میں پہنچانے والی مریم نواز ہے، شیخ رشید پاکستان کو کبھی تنہا نہیں چھوڑا، سعودی عرب حکومت کا پاکستانی واٹس ایپ بنانے کا منصوبہ اسٹاک ایکسچینج منفی ومثبت خبروں کی لپیٹ میں سائنسدانوں نے ’’سپر مِنی‘‘ پاور بینک تیار کرلیا بیکٹیریا کے نمونے لینے والابرقی کییپسول تیار صبا قمراوربلال سعید کی عبوری ضمانت منظور قومی ٹیم جارحانہ کرکٹ کھیلیں، انضمام الحق پاکستان کرکٹ ٹیم نے تمام ٹیموں کو پیچھے چھوڑ دیا بھارت کے یوم آزادی پر دنیا بھر میں یوم سیاہ منایا جا رہا ہے پاکستان قوم کوسلام محبت پیش کرتا ہوں، طیب اردگان آرمی چیف اور بل گیٹس میں ٹیلی فونک رابطہ پاکستان میں اقلیتوں کو عزت اوروقار دیا گیا ہے، فیاض الحسن چوہا... جوائنٹ ایکشن کمیٹی اسکول کھلوانے میں ناکام پروفیسر خالد مسعود گوندل کیلئے حکومت کا تمغہ حسن کارکردگی کا ا... یوم آزادی تقریب،184 شخصیات کیلئے پاکستان سول ایوارڈزکا اعلان

آصف زرداری کیخلاف گھیرا تنگ، 2سرکاری آفسران وعدہ معاف گواہ بن گئے

اسلام آباد: پارک لین ریفرنس میں نیشنل بینک کے 2 سابق صدور آصف زرداری کے خلاف وعدہ معاف گواہ بن گئے ہیں۔

اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج اعظم خان نے پارک لین ریفرنس میں عدالت کے دائرہ اختیار سے متعلق پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی درخواست پر سماعت کی۔ سابق صدر نیشنل بینک سید علی رضا زرداری اور سید قمر حسین نیب کے وعدہ معاف گواہ بن گئے جب کہ نیب نے دونوں وعدہ معاف گواہان کو قانون کے مطابق گواہی دینے پر معاف کر دیا ہے۔

نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ نیب نے آصف علی زرداری کیخلاف پارک لین ریفرنس میں 61 گواہان تیار کر لئے ہیں، پارک لین اور پارتھینون زرداری کی ہی فرنٹ کمپنیاں تھیں۔ ایس ای سی پی حکام بھی گواہی دیں گے، نیشنل بینک کریڈٹ کمیٹی کے تمام افسران بھی آصف زرداری کے خلاف گواہان میں شامل ہیں۔

تمام 61 گواہان کے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 161 کے تحت ریکارڈ بیانات نیب کے پاس موجود ہے، تمام گواہان فرد جرم عائد ہونے کے بعد عدالت میں بھی پیش کئے جائیں گے۔ نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ شواہد اکٹھے کرنے والے نیب راولپنڈی کی تفتیشی ٹیم کے 9 افسران بھی گواہان کی فہرست میں شامل ہیں، جعلی اکاؤنٹس کی ابتدائی تفتیش کرنے والے ایف آئی اے کے محمد علی ابڑو بھی گواہ ہوں گے۔

قرض لینے والی مبینہ فرنٹ کمپنی پارتھینون کے کمپیوٹر آپریٹر کی گواہی بھی شواہد کا حصہ ہے۔ پارک لین کی مبینہ فرنٹ کمپنی پارتھینون کو قرض جاری ہوتے وقت سید علی رضا نیشنل بینک کے صدر تھے، قرض جاری کرنے والے کمیٹی کے سربراہ قمر حسین بھی بعد میں نیشنل بینک کے صدر بنے، نیب نے عدالت کو بتایا کہ سید علی رضا کو ان کی اپنی درخواست پر وعدہ معاف گواہ بنا دیا گیا ہے۔

نیب نے اپنی تفتیشی رپورٹ میں کہا ہے کہ آصف زرداری نے بینک آفیشلز کو بتایا کہ میرے پیغامات انور مجید اور عبدالغنی مجید پہنچائیں گے، آصف زرداری کے دباؤ پر ہی قرض کی رقوم جاری کی جاتی رہیں جو جعلی اکاؤنٹس میں گئیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ فرنٹ کمپنیاں پارک لین اور پارتھینون یونس قدوائی نے بطور فرنٹ مین چلائیں۔

قرض اور کِک بیکس کی رقوم یونس قدوائی نے ہی جعلی اکاؤنٹس میں ڈالیں، یونس قدوائی کے دفتر پر چھاپے کے دوران ملی اے ون انٹرنیشنل نامی جعلی اکاؤنٹس کی مہریں بھی شواہد میں شامل ہیں۔ سید علی رضا نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ آصف زرداری نے بطور صدر پاکستان انور مجید اور عبدالغنی مجید کو بینک حکام سے ملایا تھا۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.