اہم خبرِیں
تحفظ اسلام بل کیخلاف پنجاب اسمبلی میں شدید احتجاج امریکا میں ٹک ٹاک اور وی چیٹ پرپابندی نیب نے وائٹ کالر کرائم کی تفتیش کے لئےسیل قائم کردیا پولیس، پٹوار کلچر میں کرپشن ہورہی ہے، عمران خان پنجاب حکومت 50 کروڑ ڈالرقرض لے گی پارک لین ریفرنس، آصف زرداری کی درخواست مسترد لڑکی کی لڑکی سے شادی کیس، دلہا کا نام ای سی ایل میں شامل بھارت میں سیکڑوں مساجد مندروں میں تبدیل نوازشریف کو سزا دینے والے جج برطرف ایم ایل ون منصوبہ میری زندگی کا مشن تھا، شیخ رشید پاکستان کا نیا نقشہ گوگل سمیت تمام سرچ انجنز کو بھجوانے کا فیص... حکومت کا ہوٹل، پارکس، سیاحتی مقامات کھولنے کا اعلان ملک میں کوروناکیسزمیں کمی، 21 اموات رپورٹ آبی ذخائر میں پانی کی آمد و اخراج کی صورتحال کلبھوشن یادیو کے معاملے پر پاکستان کا بھارت سے پھررابطہ احساس پروگرام کے تحت 169 ارب روپے تقسیم پاکستان نے سعوی عرب کا قرضہ واپس کر دیا پاکستان کو 40 کروڑ ڈالر قرضوں کی منظوری برطانوی خلائی کمپنی "سپر سانک" کمرشل طیارہ بھی بنائے گی اولڈٹریفورڈ ٹیسٹ، پاکستان 139 رنز سے اننگز آگے بڑھائے گا

وائس آف امریکہ کے غیر ملکی صحافیوں کے ویزوں میں توسیع نہ ہونے پر وطن واپسی کا خدشہ

امریکہ: متعدد اطلاعات کے مطابق امریکہ میں ایجنسی فار گلوبل میڈیا (عالمی ذرائع ابلاغ کے ادارے) کے نئے سربراہ مائیکل پیک نے اپنے احکامات سے یہ اشارہ دیا ہے کہ وائس آف امریکہ میں بیرون ملک سے آئے صحافیوں کے ویزوں میں توسیع نہیں کی جائے گی۔

ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے حمایت یافتہ مائیکل پیک کے مطابق امریکہ میں وائس آف امریکہ کے ساتھ منسلک بیرون ملک سے آئے صحافیوں کے ویزوں کی مدت ختم ہونے کے بعد ان میں توسیع نہیں کی جائے گی جس کے بعد انھیں اپنے وطن واپس جانا ہو گا۔

ایجنسی کے گورننگ بورڈ کے ایک سابق رکن میٹ آرمسٹرانگ کے مطابق یہ ایک ’بھیانک‘ فیصلہ ہے کیونکہ ان صحافیوں کو اپنے ملک واپسی پر سخت امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

تاحال اس حوالے سے وائس آف امریکہ یا ایجنسی فار گلوبل میڈیا کی جانب سے کوئی باقاعدہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔

ایک بیان میں وائس آف امریکہ سے منسلک ایک اہلکار کا کہنا تھا کہ ’اگر یہ صحافی اپنے وطن لوٹتے ہیں تو انھیں ان کی رپورٹنگ کی بنیاد پر سزائے موت، قید یا بدسلوکی جھیلنی پڑ سکتی ہے۔‘

بدھ کو ادارے سے منسلک ریڈیو فری ایشیا کی ایک مدیر بے فینگ کی مدت ملازمت ختم کر دی گئی۔ وہ ایک تجربہ کار اور سینیئر صحافی ہیں۔

وائس آف امریکہ کا مقصد ان ممالک سے متعلق رپورٹنگ کرنا ہے جہاں مکمل طور پر میڈیا آزاد اور متحرک نہیں ہے۔ لیکن ویزے سے متعلق اس فیصلے نے ادارے کے لیے مشکلات کھڑی کر دی ہیں۔ وائس آف امریکہ میں کام کرنے والے صحافی اپنی مقامی زبانوں پر عبور رکھتے ہیں اور اس لیے اپنے علاقوں کے حوالے سے رپورٹنگ کرتے ہیں۔

اس فیصلے سے غیر ملکی سروسز کے 100 سے زیادہ ملازمین متاثر ہوسکتے ہیں۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ آیا یہ فیصلہ ان دیگر نشریاتی اداروں پر بھی ہو گا جو امریکی حکومتی ایجنسی کے ماتحت ہیں۔

وائس آف امریکہ کے کون سے صحافی متاثر ہوسکتے ہیں؟
ایجنسی فار گلوبل میڈیا (عالمی ذرائع ابلاغ کے ادارے) کی جانب سے ممکنہ طور پر اس اقدام سے وہ غیر ملکی صحافی متاثر ہوں گے جنھیں ایکسچینج پروگرام کے تحت جے ون ویزے پر امریکہ بلایا گیا۔ لیکن اس اقدام کے بعد ان لوگوں کے ویزوں میں توسیع روکی جاسکتی ہے اورایسے میں انھیں اپنے وطن واپس لوٹنا ہو گا۔

بعض مبصرین کے مطابق اپنے وطن لوٹنے پر ان صحافیوں کو ان کے کام کی وجہ سے امتیازی سلوک اور سزاؤں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

اس صورتحال میں وائس آف امریکہ کے ایک رکن نے بتایا کہ اردو سروس کی کم از کم تین خاتون صحافی متاثر ہو سکتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان میں سے ایک خاتون صحافی حال ہی میں امریکہ پہنچی ہیں تاہم انھیں ملازمت کا کانٹریکٹ جاری نہیں کیا جا رہا۔

خیال رہے کہ وی او اے کی اردو سروس میں چالیس کے قریب افراد کام کرتے ہیں جن میں سے بیشتر سالانہ معاہدوں پر کام کرتے ہیں جن کی سالانہ تجدید ہوتی ہے۔

غیر ملکی صحافی کون سے ویزے پر امریکہ میں کام کرتے ہیں؟
امریکہ پہنچ کر کام کرنے کے لیے غیر ملکی صحافیوں کو جے ون ویزا کی ضرورت ہوتی ہے جو امیگریشن مقاصد کے لیے استعمال نہیں ہوتا۔ یہ ویزا ایسے افراد کو دیا جاتا ہے جو تعلیم یا کام کی غرض سے ایکسچینج (یا تبادلے کے) پروگرام کے تحت امریکہ آنے کے خواہشمند ہوتے ہیں۔

وائس آف امریکہ میں بیرون ملک سے آنے والے صحافیوں کو بھی یہی ویزا دیا جاتا ہے۔ خیال ہے کہ اس ادارے میں کام کرنے والے صرف وہ صحافی اس فیصلے سے متاثر ہوں گے جن کے پاس جے ون ویزا ہے۔

جے ون ویزا اکثر ایک پروگرام سپانسر کی مدد سے حاصل کیا جاتا ہے اور پروگرام ختم ہونے تک اس میں توسیع کی جاتی ہے۔ ایکسچینج پروگرام کا مقصد تعلیمی اور سماجی شعبوں میں بہتر سمجھ بوجھ کو فروغ دینا ہوتا ہے جبکہ پروگرام کے اختتام پر ان افراد کو اپنے ملک واپس جانا ہوتا ہے۔

امریکہ میں دفتر خارجہ کے مطابق ایکسچینج پروگرام کے تحت ہر سال 200 ممالک سے تعلق رکھنے والے تین لاکھ افراد کو مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔

پاکستان سمیت کئی ممالک سے جے ون ویزے کے ذریعے لوگ امریکہ میں تعلیم حاصل کرتے ہیں، تحقیق میں حصہ لیتے ہیں یا مختلف شعبوں میں کام کرتے ہیں تاکہ وہ ’امریکی سماج اور ثقافت کے بارے میں جان سکیں۔‘

وائس آف امریکہ (وی او اے) کیا ہے؟
وائس آف امریکہ یا وی او اے کی بنیاد سنہ 1942 میں ڈالی گئی۔ وی او اے کی ویب سائٹ کے مطابق یہ ملک میں سب سے بڑا بین الاقوامی نشریاتی ادارہ ہے جو دنیا بھر میں 28 کروڑ سے زیادہ لوگوں کو 40 سے زیادہ زبانوں میں خبریں اور حالات حاضرہ سے متعلق معلومات فراہم کرتا ہے۔

وی او اے کی نشریات اس کی ویب سائٹ، ٹی وی چینل، ریڈیو اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شائع کی جاتی ہے۔

یہ امریکہ میں ایجنسی فار گلوبل میڈیا کا حصہ ہے اور اسے امریکی کانگریس کی جانب سے فنڈنگ ملتی ہے۔ یہ حکومتی ادارہ امریکہ کی تمام بین الاقوامی و غیر فوجی نشریات کی نگرانی کا ذمہ دار ہے۔

دنیا کے کئے ممالک میں وی او اے کے صحافی اور بیورو موجود ہیں جو متعلقہ زبانوں میں خبروں کی نشریات اور پروگرام پیش کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ایف ایم ریڈیو پر بھی وی او اے کے پروگرام سنے جا سکتے ہیں۔

وائس آف امریکہ کی اردو سروس، دری سروس، دیوہ سروس اور پشتو سروس پاکستان اور افغانستان کے سامعین، ناظرین اور قارئین کے لیے کام کرتی ہیں۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.