یوپی: کاس گنج میں ترنگا جلوس پر پتھراؤ ، ایک ہلاک ، گاڑیاں نذرآتش کرفیو نافذ

    لکھنؤ: کاس گنج سے موصولہ اطلاع کے مطابق یوم جمہوریہ کی پریڈ پر حملہ ہوجانے کی بنا ء پر فرقہ وارانہ تشدد پھیل گیا ۔ پولیس اگرچہ اسے ہلکا کرکے بتا رہی ہے لیکن وہاں آتشزنی اور مار پیٹ کے واقعات جمعہ کو جاری رہے۔ پورے علاقے میں کرفیو لگا دیا گیا ہیے۔جس وقت صبح ترنگا جلوس نکالا جارہا تھا تو کسی شر پسند نے اس پر پتھر پھینک دیا جس سے لوگ برہم ہوکر آس پاس کے مکانات پر حملہ آورہوگئے اور جو بھی سامنے آیا اسے جلوس میںشامل افراد پیٹنے لگے۔ دیکھتے دیکھتے ترنگا جلوس 2گروپوں میں بٹ گیا اور دونوں ایک دوسرے سے متصادم ہوگئے۔الزام ہے کہ دوسرے فرقے کے لوگوں کی طرف سے فائرنگ ہوئی جس میں ایک 22سالہ شخص چندن ولد سنیل گپتا پلاک ہو گیا جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے ۔پولیس نے بتایا کہ چند زخمیوں کو اسپتال بھیج دیا گیا ہے۔ چندن کے مرنے کے فوراً بعد ہندو تنظیموں نے مارکیٹ بند کرا دئیں اور مکانوں کو جلانے کی ناکام کوشش بھی کی گئی۔ بہت سے علاقوں میں فسادیوں نے پتھراؤ کیا حالانکہ پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ حالات پر قابو پا لیا گیا ہے تا ہم شرپسندو ں کو منتشر کرنے کیلئے لاتھی چارج بھی کیا گیا۔ پولیس اور بلوائیوں کے درمیان شہر کے مختلف علاقوں میں جھڑپیں بھی ہوئیں۔ ابتدائی تفتیش سے پتہ چلا کہ ترنگا جلو س وشو ہندو پریشد کے کارکن نکال رہے تھے جس میں وہ ہندوستان کے حق میں اور پاکستان کیخلاف نعرے بازی کر رہے تھے جس پر وہاں موجود کچھ لوگوں نے اعتراض کیا تو یہ تکرار بڑھ کر جھگڑے میں بدل گئی۔ علی گڑھ کے آئی جی سنجیو گپتا، کمشنر سبھاش چندر شرما سمیت سینیئر پولیس افسران بھی کاس گنج پہنچ گئے۔ فرقہ وارانہ کشیدگی اور ہنگامے کو دیکھتے ہوئے پولیس فورس طلب کر لی گئی۔ اس ہنگامے میں ہلاکت کی خبر ملنے پر رکن پارلیمنٹ راج ویرسنگھ راجو اور بی جے پی کے دوسرے سینیئر لیڈر بھی کاس گنج پہنچ گئے جہاں سے وہ وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو پل پل کی خبریں دے رہے ہیں۔ رکن پارلیمنٹ نے تو الزام لگایا کہ پولیس جانبداری دکھا رہی ہے۔

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.