مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کئے جانے کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کے لیے ترکی سیکیورٹی کونسل میں تحریک پیش کرے گا اور اگر امریکا رکاوٹ بنا تو قرارداد جنرل اسمبلی میں پیش کی جائے گی۔

تفصیلات کے مطابق ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے بیت المقدس کو فلسطین کا دارالحکومت تسلیم کرتے ہوئے اپنا سفارت خانہ کھولنے کا اعلان کردیا۔

ترک صدر کا کہنا تھا کہ ترکی جلد ہی مشرقی بیت المقدس میں سفارتخانہ کھولے گا اور ساتھ ہی تمام مسلم ممالک سے بیت المقدس کو فلسطینی دارالحکومت تسلیم کرنے کی اپیل بھی کر دی ہے۔

فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کیلئے ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ترک صدر نے کہا کہ امریکی صدر کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارلحکومت تسلیم کئے جانے کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کے لیے ترکی سیکیورٹی کونسل میں تحریک پیش کرے گا اور اگر امریکا رکاوٹ بنا تو قرارداد جنرل اسمبلی میں پیش کی جائے گی۔

یاد رہے اس سے قبل استنبول میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے رجب طیب اردوگان نے کہا تھا کہ اسرائیل ایک دہشت گرد ریاست ہے جو بچوں کو قتل کرتی ہے۔

دوسری جانب مقبوضہ بیت المقدس سے متعلق امریکی فیصلے کیخلاف سلامتی کونسل میں رائے شماری آج متوقع ہے، قرارداد مصر کی جانب سے پیش کی گئی ہے، قرارداد کے مسودے میں بیت المقدس سے متعلق حالیہ فیصلوں پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ متنازعہ معاملے پرواشنگٹن کے یک طرفہ فیصلے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔

مجوزہ قرارداد میں اقوامِ متحدہ کے تمام رکن ملکوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اپنے سفارت خانے یروشلم منتقل کرنے سے گریز کریں، قرارداد پر امریکہ کی جانب سے ویٹو کئے جانے کا خدشہ ہے۔

واضح رہے کہ امریکی صدرڈونلڈٹرمپ نے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرلیا، ٹرمپ کے فیصلے پر مسلمان ملکوں کی جانب سے شدید ردعمل کا اظہار کیا جارہا ہے جبکہ مختلف شہروں میں مظاہرے کئے جارہے ہیں۔

امریکا صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ کئی امریکی صدور نے اس اقدام کا سوچا تھا لیکن وہ ایسا نہیں کرسکے اس لیے یہ معاملہ کافی برسوں سے التواء کا شکار تھا، جس پر میں آج سخت فیصلہ کرتے ہوئے یروشلم کو اسرائیل کا دارالخلافہ تسلیم کرنے کا اعلان کرتا ہوں اور اس مشکل کام کو انجام تک پہنچانے  پر خوشی محسوس کر رہا ہوں۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.