Daily Taqat

جرمنی کے ہر شہری کو اعضا کا عطیہ کنندہ قرار دینے کی کوشش

جرمنی کی وزارتِ صحت کی جانب سے ملک میں جسمانی اعضا کی بڑھتی ہوئی ضرورت کے پیش نظر ملک کے ہر شہری کو اعضا کا عطیہ کنندہ قرار دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔ تفصیلات کے مطابق جرمنی کے وزیر صحت جین سپاہن کوشش کررہے ہیں کہ ان کا ملک جسمانی اعضاء عطیہ کرنے کے حوالے سے آپٹ آؤٹ پالیسی (ہر شخص اعضاء کا ڈونر) اختیار کرلے۔

انہوں نے کہا کہ وہ اس پالیسی کے حق میں ہیں، جس کی وجہ رواں سال جسمانی اعضاء کے ڈونرز کا تاریخ کی کم ترین شرح پر ہونا ہے۔ جبکہ سائنس کے میدان میں ہونے والی روز افزوں ترقی کے سبب جسمانی اعضاء کی ڈیمانڈ روز بروز بڑھتی جارہی ہے۔ آپٹ آؤٹ پالیسی میں ہر شخص کو اعضاء کا عطیہ کنندہ تصور کیا جاتا ہے اور اس کی موت پر قابل استعمال اعضاء نکال لیے جاتے ہیں، تا آنکہ وہ شخص از خود اس بات کا قانونی طریقے سے اظہار نہ کرے کہ موت کے بعد اس کے اعضاء نہ نکالے جائیں۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ہمیں اس معاملے کو پارلیمنٹ میں لانا ہوگا کہ وہی اس بات پر بحث کرنے کی سب سے مناسب جگہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صورتحال اس قدر سنگین ہے کہ ہر آٹھ گھنٹے میں ایک ایسا مریض انتقال کر جاتا ہے، جو کہ جسمانی اعضا کے حصول کے لیے کسی عطیہ کنندہ کا منتظر ہوتا ہے، ابھی بھی دس ہزار لوگ انتظار کی فہرست میں موجود ہیں۔ جرمنی کی اعضا پیوند کاری کرنے والی فاؤنڈیشن کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال صرف 797 افراد نے اعضا عطیہ کرنے کے لیے رجسٹریشن کرائی اور محض 2،594 اعضا لگائے جاسکے، جبکہ دس ہزار لوگ اعضا کا انتظار کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ یورپ کے کئی ممالک جیسا کہ آسٹریا، بیجلئم، کروشیا، اسٹونیا، فن لینڈ، فرانس، یونان، ہنگری، اسپین، نیدر لینڈ، روس اور ترکی پہلے ہی یہ نظام اپنا چکے ہیں۔ تاہم ان میں سے کچھ ممالک میں ڈونر کے ورثاء کو یہ حق حاصل ہے کہ اگر ڈونر نے اپنے اعضا سے متعلق وصیت نہیں کی تو وہ اس معاملے میں فیصلہ کرسکیں۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »