اہم مسلمان ممالک کے درمیان اچانک سخت جملوں کا تبادلہ

متحدہ عرب امارات اور ترکی کے درمیان اچانک سخت جملوں کا تبادلہ ہو گیا ۔یہ صورتحال اس وقت پیش آئی جب متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ نے ایک متنازعہ موضوع پر ری ٹوئٹ کیا
بحران کا آغاز اماراتی وزیر خارجہ کی ایک ری ٹوئیٹ سے ہوا جس میں مدینہ منورہ کے مکینوں کے خلاف آخری ترک ذمّے دار کے جرائم کا ذکر کیا گیا تھا۔ اس ٹوئیٹ میں جدید ترک ریاست کے عوام یا قیادت کا ذکر نہیں تھا۔تاہم ٹوئیٹ کے متن میں تاریخی روایت نے صدارتی سطح پر ترکی کے غضب کو جنم دے دیا۔ ترک صدر کے دفتر نے ٹوئیٹ کو ترکوں کے لیے اہانت شمار کیا۔ اس کے نتیجے میں ترک صدر کا غصے سے بھرپور رد عمل پیدا ہوا اور ان کے ترجمان کی جانب سے پوسٹ کے مواد کی مذمت میں بھرپور موقف سامنے آیا۔سائبر میدان میں سفارتی بحران کے حوالے سے متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید کی حمایت کی مہم کا آغاز بھی ہو گیا ۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.