امریکا نے فلسطینی پناہ گزینوں کو دی جانیوالی امداد روک لی

واشنگٹن: امریکا نے فلسطینی پناہ گزینوں کے لئے اقوام متحدہ کے ادارے کو دی جانے والی اعلان کردہ امداد روک لی۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ہیتھر نارٹ نے میڈیا نمائندوں کو بریفنگ کے دوران بتایا کہ فلسطینی پناہ گزینوں کی امداد کے لئے اقوام متحدہ کے ادارے ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی کو دی جانے والی امداد میں سے آدھی رقم روک لی گئی ہے۔

ترجمان کے مطابق فلسطین کو دیے جانے والے 125 ملین ڈالر کے امدادی پیکج میں سے 65 ملین ڈالر امداد روکی گئی ہے جب کہ اضافی امداد میں بھی کچھ تبدیلیاں کی جائیں گی۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ امدادی رقم مستقبل میں غور کیے جانے تک منجمد رہے گی۔

اقوام متحدہ کے ادارے ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی کو امریکا کی جانب سے حاصل ہونے والی رقم ہی 50 لاکھ سے زائد فلسطینی پناہ گزینوں کی امداد کا ذریعہ ہے اور یہ امداد پناہ گزینوں کی خوراک، تعلیم، صحت اور سوشل سروسز پر خرچ کی جاتی ہے۔

خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں بذریعہ ٹوئٹ فلسطین کو دی جانے والی امداد بند کرنے کا ذکر کیا تھا۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم ہر سال فلسطین کو کروڑوں ڈالر دیتے ہیں مگر نہ تو اس کا خیر مقدم کیا جاتا ہے اور نہ عزت۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.