امریکہ نے پاکستان کی جانب سے ریڈیو چینل پر لگائی جانے والی پابندی ہٹانے کامطالبہ

امریکہ نے پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ اسلام آباد میں امریکی امداد پر چلنے والی ریڈیو مشعال کی نشریات پر عائد کی جانے والی پابندی ہٹائی جائے۔ امریکی دفتر خارجہ کی ترجمان نے ہیتھر نوئرٹ نے  کہا ’19 جنوری کو پاکستان کی وزرات داخلہ کی جانب سے ریڈیو فری یورپ /ریڈیو فری لیبرٹی کے ریڈیو مشعال پر لگائی جانے والی پابندی کے حکومتی فیصلے پر امریکہ کو تشویش ہے۔ ہم نے پاکستانی حکومت کو اپنی تشویش سے آگاہ کیا ہے اور ہم پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بغیر کسی تاخیر کے ریڈیو مشعال کو بند کرنے کا فیصلہ واپس لے۔خیال رہے پاکستان کی جانب سے ریڈیو مشعال کی نشریات پر پابندی ایسے وقت لگائی گئی ہے جب امریکہ اور پاکستان کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے۔امریکہ نے پاکستان پر حقانی نیٹ ورک کے خلاف موثر کارروائی نہ کرنے کا الزام لگاتے رواں ماہ ہی پاکستان کو دی جانے والی تقریباً دو ارب ڈالر کی امداد روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے جواب میں پاکستان نے بھی تمام تعلقات ختم کرنے کا اعلان کیا۔ریڈیو مشعال کی انتظامیہ نے بدھ کو حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا تھا

کہ ان کے صحافیوں کو بغیر خوف و خطرہ کام کرنے دیا جائے۔اس سلسلے میں ریڈیو کی انتظامیہ نے ایک بیان میں کہا کہ ‘ملک کی خفیہ ایجنسی نے مشعال ریڈیو پر یہ الزم لگایا ہے کہ وہ پاکستان کے قومی مفاد کے خلاف کام کر رہا ہے جس کے بعد وزرات داخلہ نے 19 جنوری کو اسلام آباد میں ریڈیو مشعال بیورو کو بند کر دیا۔‘ریڈیو انتظامیہ نے مزید کہا کہ ’پشتو زبان میں چلنے والی ریڈیو مشعال کی نشریات ایک پبلک سروس ہے جس کا مقصد انتہا پسندی اور اس کے پیچھے کارفرماں سوچ سے نمٹنا ہے۔’پشتو میں چلنے والی ریڈیو مشعال کی نشریات کو بند کرتے ہوئے پاکستانی وزرات داخلہ کی جانب سے جاری ایک نوٹیفکیشن میں کہا گیا تھا کہ ‘ریڈیو پر چلنے والے پروگرامز کے چار اہم پہلو ہیں جس میں پاکستان کو ایک ایسے ملک کے طور پر دک?ایا گیا ہے جو انتہا پسندوں کو مخفوظ پناہ گاہیں مہیا کرتا ہے، انتہاپسندی کا گڑھ ہے، پاکستان کو ایک ناکام ریاست پیش کیا گیا جو اپنے شہریوں اور خصوصاً اقلتیوں کو تحفظ مہیا کرنے میں ناکام رہی ہے جبکہ خیبرپختواخوا، فاٹا اور بلوچستان کی پشتون عوام کو ریاست سے نالاں دکھایا گیا، ریاستی اداروں کے خلاف عوام کے ایک مخصوص طبقے کو بھڑکانے کے لیے حقائق کو صحیح طریقے سے بیان نہیں کیا جا رہا


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.