اہم خبرِیں

گولڈن ٹمپل پربھارتی فوج کے حملے کی برسی کی تین روزہ تقریبات مکمل

لاہور: سکھوں کے مقدس مقام گولڈن ٹمپل اورشری اکال تخت صاحب پربھارتی فوج کے حملے اوربربریت کی یاد میں منعقدہ تین روزہ تقریبات آج ختم ہوجائیں گی۔

گورودوارہ جنم استھان ننکانہ صاحب سمیت پاکستان میں موجود اہم گورودواروں میں اکھنڈپاتھ صاحب کی تقریبات منعقد ہوئیں۔ 1984 میں بھارتی فوج نے امرتسرمیں واقع دربارصاحب جسے گولڈن ٹمپل بھی کہا جاتاہے پر حملہ کرکے ناصرف سکھوں کے اس مقدس مقام کونقصان پہنچایا بلکہ اس حملے میں سکھ رہنما جرنیل سنگھ بھنڈراوالہ سمیت سینکڑوں سکھوں کو قتل کردیاگیاتھا۔

پاکستان اوربھارت سمیت دنیابھرمیں بسنے والے سکھ ہرسال یکم سے 6 جون تک 1984 میں ہونیوالے آپریشن بلیوسٹار کیخلاف احتجاج کرتے ہیں اوران سکھوں کی یاد میں ارداس کی جاتی ہے جنہیں بھارتی فوج نے انتہائی بے رحمی سے قتل کردیاتھا۔
کورونا وائرس کی وجہ سے اس سال بڑے پیمانے پراحتجاجی مظاہرے اورریلیاں منسوخ کردی گئی ہیں تاہم گورودواروں میں اس سانحہ کی یاد میں دعائیہ تقریبات کا انعقادکیاگیا ہے۔

پاکستان سکھ گورودوارہ پربندھک کمیٹی کے پردھان سردارستونت سنگھ نے ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے کہا سکھ قوم آپریشن بلیوسٹارکوبھولی ہے نہ کبھی بھولے گی، بھارتی فوج نے جس طرح دربارصاحب اورشری اکال تخت صاحب پرچڑھائی کی اوربیگناہ سکھوں کا قتل عام کیا وہ کبھی بھلایانہیں جاسکتا ہے۔

سردارستونت نے کہا بھارتی فوج نے معصوم بچوں اورخواتین کو بھی نہیں بخشاتھا جو دربارصاحب میں ماتھاٹیکنے آئے تھے، بھارتی فوج جہاں مسلمانوں پرمظالم کے پہاڑتوڑرہی ہے وہیں سکھوں کو بھی نشانہ بنایاجاتا ہے۔ آپریشن بلیوسٹاربھارت کے ماتھے پروہ سیاہ داغ ہے جسے کبھی دھویانہیں جاسکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 1984 میں یکم سے 8 جون تک بھارتی فوج نے گوردوارہ دربارصاحب گولڈن ٹمپل کامحاصرہ کیے رکھا اور ٹینکوں سے حملہ کیا، بھارتی فوج نے سکھ لیڈرجرنیل سنگھ بھنڈراوالااوران کے ساتھیوں سمیت سینکڑوں بے گناہ سکھوں کا قتل عام کیاتھا۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.