نیب عدالت میں جھوٹے کیس کاسامناکرناچاہتاہوں،مگرعلاج مکمل ہونے تک سفرکی اجازت نہیں

لندن : سابق وزیرخزانہ اسحاق ڈار  کہتے ہیں کہ میں اپنے ضمیر سے مطمین ہوں میرا ضمیرصاف اورمطمئن ہے،ضمیرپرکوئی بوجھ نہیں ،کرپشن اوراقرباپروری کاالزام ثابت ہوجائے توسزابھگتنے کیلئے تیارہوں، سابق وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ پاناماانکوائری میں میرانام شامل نہیں تھا، جے آئی ٹی کی تشکیل کے بعدنام سامنے آیا،مقدمات بنانے والوں کے عزائم بے نقاب ہوں گے،اسحاق ڈارکا کہناتھا کہ وہ پاکستان آکرنیب عدالت کے سامنے جھوٹے کیس کاسامناکرناچاہتاہوں،مگر ڈاکٹر علاج مکمل ہونے تک سفرکی اجازت نہیں دے رہے۔
سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ نوازشریف نے سپریم کورٹ کافیصلہ مکمل طورپرقبول کیا،اقامہ کوبنیادبناکرنوازشریف کو ایجنڈے کے تحت نکالاگیا،وہ سابق وزیراعظم کے موقف کی مکمل حمایت کرتے ہیں،انہوں نے کہا کہ میرے کیس میں 34 سال کے ٹیکس ریٹرنزایف بی آرکے پاس ہیں،ٹیکس ریٹرنزکےساتھ کوئی مسئلہ نہیں لیکن اس معاملے میں مختلف پیمانہ اختیار کیاجارہاہے،اسحاق ڈار کا کہناتھا کہ 2013میں پاکستان کی معاشی حالت ابترتھی،جب وزارت خزانہ سنبھالی تودنیاپاکستان کودیوالیہ کے قریب قراردے رہی تھی،میری ٹیم نے صبح10بجے سے رات4،4بجے تک کام کیااورچارسال میں پاکستان کوجی20کارکن بننے کااہل قراردیاجانے لگا،انہوں نے کہا کہ اپناکرداربخوبی اداکیااوردنیااس حقیقت کوتسلیم کرتی ہے،کچھ لوگ کارکردگی پرتنقیدکرتے ہیں توٹھیک ہے لیکن یہ رجحان پاکستان کیلئے درست نہیں۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.