سعودی حکومت نے خواتین کے خلاف مزید ایک فتویٰ

سعودی عرب کے صوبے اسیر حکومت کے مذہبی امور کے سابق سربراہ شیخ سعد الہجیری نے خواتین کے لیے مردوں کا فٹ بال میچ دیکھنے کو حرام قرار دے دیا۔عرب میڈیا کے مطابق سعودی مفتی نے کہا کہ مسلمان خواتین کے لیے ٹی وی پر فٹ بال میچ دیکھنا حرام ہے کیونکہ خواتین کی نظر فٹبالرز کے گھٹنوں اور رانوں پر پڑتی ہے جسے دیکھنا گناہ ہے۔آن لائن پوچھے گئے سوال کہ خواتین کے فٹ بال میچ دیکھنے سے انہیں کیا ملے گا اور اس کا کیا فائدہ؟ کا جواب دیتے ہوئے سعودی مفتی نے کہا کہ کوئی فائدہ نہیں ہےکیونکہ خواتین کو مقابلے میں ہونے والے گولز سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی اور وہ اس حوالے سے کسی قسم کی پرواہ نہیں کرتیں لیکن میچ دیکھنے سے خواتین کی نظرین

مردوں کی رانوں پر پڑتیں ہیں جو کہ گناہ کا سبب بنتا ہے۔شیخ سعد نے شوہروں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی بیویوں کو ایسے گیمز کیوں دیکھنے دیتے ہیں جس میں مردوں کے سطر کا پورا خیال نہ رکھا گیا ہو،ایسے شوہروں کو شرم نہیں آتی ،کیا وہ اللہ سے خوفزدہ نہیں ،شوہروں کو اپنی بیویوں کو اس قسم کے مقابلے دیکھنے سے روکیں۔واضح رہے کہ مذکورہ پروگرام کی ویڈیو کچھ عرصے قبل اپ لوڈ کی گئی تھی جسےلوگوں نے خاطر میں نہ لاتے ہوئے نظر انداز کیا تاہم حال ہی میں شاہی فرمان کے تحت خواتین کے لیے اسٹیڈیم کے دروازے کھلنے کے بعد اس ویڈیو پر شدید ردعمل آرہا ہے اور صارفین نے مذکورہ مفتی کے جوابات پرتنقید کرتے ہوئے اسے متنازع قرار دیا ہے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.