Daily Taqat

روس اور ایران کے درمیان جوہری پلانٹ کے معاہدے کے لیے مذاکرات کا آغاز

ایران میں جوہری منصوبوں کی تعمیر کے لیے روس اور تہران کے درمیان نئے مذکرات کا آغاز ہوچکا ہے۔ جبکہ روس کا ایک جوہری ریکٹر پہلے سے ایران میں کام کررہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ایران کے وزیر توانائی نے کہا ہے کہ نئے جوہری پلانٹ کی تعمیر کے لیے ایران اور روس کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہوگیا ہے، جس کے بعد 3 ہزار سے زائد میگاواٹ بجلی پیدا کی جاسکے گی۔ غیر ملکی ذرائع کے مطابق ایران تاحال جوہری توانائی کے ذریعے ایک ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یاد رہے کہ روس کی جانب سے پہلے ہی ایک جوہری پلانٹ ایران میں کام کررہا ہے۔

خیال رہے کہ ایران اور روس کے درمیان 2014 میں جوہری پلانٹ لگانے کا معاہدہ طے ہوا تھا، جس کے تحت 8 سے زائد پلانٹ تعمیر کیے جائیں گے۔ دوسری جانب امریکا نے سنہ 2015ء میں طے ہونے والے جوہری معاہدے کو منسوخ کرتے ہوئے مزید اقتصادی پابندیاں عائد کردی ہیں۔ امریکا کی جانب سے اقتصادی پابندیاں عائد کیے جانے کے جواب میں ایرانی صدر حسن روحانی نے کا کہا تھا کہ امریکا تہران کے ساتھ محاز آرائی کرنے سے گریز کرے ورنہ دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی جنگ تمام جنگوں کی ماں ہوگی۔

ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ امریکا تہران کو عالمی منڈی میں تیل فروخت کرنے سے روکنے کی جرآت نہیں کرسکتا۔ واضح رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان تعلقات 2015 میں ایران سے کیے گئے عالمی جوہری معاہدے سے امریکا کے رواں سال مئی میں نکلنے کے بعد سے شدید بحران کا شکار ہیں۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »