ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف 250 شہروں میں لاکھوں خواتین کا احتجاج

ایک سال قبل جب ٹرمپ نے امریکی صدارت کا حلف اٹھایا تو دنیا بھر میں خواتین ان کے خلاف سڑکوں پر نکل آئی تھیں۔ اب ان کے اقتدار میں آنے کا ایک سال مکمل ہونے پر امریکا کے ڈھائی سو سے زائد شہروں میں ایک بار پھر خواتین سڑکوں پر نکلی آئی ہیں ۔

ڈونلڈ ٹرمپ ٹرمپ کی صدارت کا سال مکمل ہونے پر امریکا کے سیکڑوں شہروں میں لاکھوں خواتین اور ان کے حامیوں نے ٹرمپ کے متعدد خواتین کے ساتھ جنسی تعلقات اور نفرت انگیز پالیسیوں کے خلاف احتجاج کیا ، سان فرانسسکو، نیویارک، سیاٹل، لاس اینجلس، شکاگو اور پارک سٹی سمیت 250 سے زائد دیگر شہروں میں مظاہرے کیے گئے ۔

مظاہرے میں شریک خواتین کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں نے خواتین کو نقصان پہنچایا ہے اور انہوں نے ووٹرز پر زور دیا کہ وہ اس سال نومبر میں ہونے والے انتخابات اپنا ووٹ ضرور استعمال کریں ۔

ادھر واشنگٹن میں متعدد سینیٹرز کے دفاتر کے سامنے بھی مظاہرہ کیا گیا ۔ مظاہرے میں شریک افراد امیگریشن پالیسی کے حوالے سے حکومتی اقدامات نہ کیے جانے کے خلاف احتجاج کررہے تھے ۔ اس موقع پر پولیس نے متعدد افراد کو حراست میں بھی لیا ۔

دوسری جانب سوئٹزر لینڈ کے شہر ڈاووس میں بھی صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف مظاہرے کیے گئے ۔ ڈاووس میں ان دنوں ورلڈ اکنامک فورم کا اجلاس جاری ہے ۔ جس میں صدر ٹرمپ سمیت ستر سے زائد عالمی رہنما شرکت کررہے ہیں ۔

ادھرصدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنی پالیسیوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ کس طرح معاشی بہتری کے نتیجے میں خواتین کو روزگارکے بہتر مواقع میسر آئے اور گزشتہ اٹھارہ سال کے دوران یہ پہلا موقع ہے کہ بے روزگار خواتین کی تعداد میں سب سے زیادہ کمی ہوئی ہے ۔ اس بات کا بھی جشن منایا جانا چاہئے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.