بھارت کے یوم جمہوریہ کہ موقع پر کشمیر بھر سے احتجاجی ریلیاں

بھارت کے یوم جمہوریہ کو ریاست کے آر پار کے کشمیریوں اور ان کی قیادتوں نے یوم سیاہ کے طور پر منایا اور پوری دنیا میں مقیم کشمیریوں نے احتجاجی کیمپ لگائے آزاد کشمیر بھر میں احتجاجی مظاہرے اور احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں بھارت کے یوم جمہوریہ کو یوم سیاہ کے طور پر منا یا گیا آزاد کشمیر کی تمام بار ایسوسی ایشن نے عدالتی کاررائی کا بائیکاٹ کیا آزاد جموں وکشمیر بار کونسل کی کال پر یوم سیاہ منایابھارتی یوم جمہوریہ کو عالمی امن کے خلاف بٖڑی سازش قرار دیا اور کہا کہ بھارت نے جمہوریت نہیں بلکہ امیریت ہے 1کڑور 30لاکھ کشمیریوں کو ان کا بنیادی حق حق خودرادیت نے بھارت نے محروم بنا کر کشمیریوں کو بھارت کا محکوم بنا رکھا ہے مقبوضہ کشمیر میں عملاّ انسانی حقوق کی پامالی کے

واقعات رونما کےئے جا رہے ہیں کشمیریوں کو حق آزادی مانگنے پر شہید کیا جاتا ہے عورتوں کی عصمت دری کی جاتی ہے بچوں کو لقمہ اجل بنا دیا جاتا ہے ضلعی ہیڈکوارٹر ہٹیاں بالا کے مقام پر سب سے بڑی احتجاجی گورنمنٹ صاحبزادی انور نوثر گرلز ڈگری کالج ہٹیاں بالا کی طالبات نے نکالی جس کی قیادت پرنسپل شائستہ بخاری اور ان کا سٹاف کر رہا تھا طالبات نے سیا ہ پر چم بلند کر رکھے تھے اور سیاہ پٹیاں باندھ کر احتجاجی ریلی میں شرکت کی ہٹیاں بالا کی فضا بھارت مخالف نعروں سے گونجتی رہی احتجاجی ریلیوں اور پر وگرامات سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے عالمی برادری سے پر زور مطالبہ کیا کہ کشمیری عوام کو سلامتی کونسل کی منظور شدہ قرار دادوں کے مطابق حق خود رادیت دلایا جائے اور مقبوضہ کشمیر میں جاری کشمیریوں کی نسل کشی کو بند کروایا جائے ۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.