سعودی حکومت کی قید میں موجود شہزادہ ولید بن طلال پہلی مرتبہ منظر عام پر آگیا، ایسا اعلان کردیا کہ دنیا دنگ رہ گئی

ریاض: دنیا کے امیر ترین افرادمیں شامل سعودی ارب پتی شہزادے ولید بن طلال جنہیں اینٹی کرپشن مہم کے دوران گرفتار کیا گیا تھا پہلی بار منظر عام پر آگئے اور کہا ہے کہ وہ خود پر لگائے جانے والے الزامات کو غلط ثابت کرکے آئندہ چند روز میں قید سے رہائی حاصل کرلیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ان کے اثاثوں کو ضبط نہیں کیا گیا اور وہ بالکل محفوظ ہیں۔
شہزادہ ولید سمیت درجنوں شہزادوں کو اسی فائیو سٹار ہوٹل میں 4 نومبر کو گرفتار کیے جانے کے بعد رکھا گیا ، جبکہ حکومت نے اسی ہوٹل کو شہزادوں کیلئے عارضی جیل قرار دیا ہوا ہے۔ گرفتاری کے بعد پہلی بار شہزادہ ولید بن طلال پہلی بار اپنی گرفتاری کے حوالے سے بولے ہیں ۔

انہوں نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ وہ حکام کے ساتھ ہونے والی تفتیش میں مسلسل اپنی بے گناہی ثابت کرنے میں کامیاب ہوچکے ہیں، انہیں امید ہے کہ وہ بہت جلد اپنی بین الاقوامی سرمایہ کار کمپنی کنگڈم ہولڈنگز کے تمام اثاثے واپس حاصل کرلیں گے اور اس میں سے کچھ بھی حکومت کو نہیں دینا پڑے گا۔

شہزادہ ولید بن طلال نے کہا کہ وہ شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے شروع کی جانے والی اصلاحات کی مکمل حمایت کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ غلط فہمی کی بنا پر مجھے گرفتار کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے ان پر کوئی الزامات عائد نہیں کیے گئے بلکہ ان کے حکومت کے ساتھ بعض معاملات پر مذاکرات ہو رہے ہیں اور امید ہے کہ آئندہ چند روز میں تمام مسائل حل ہوجائیں گے۔

شہزادہ ولید بن طلال نے کہا کہ وہ رٹز کارلٹن ہوٹل میں ایسے ہی رہ رہے ہیں جیسے اپنے گھر پر رہتے ہیں ، وہ یہاں داڑھی بھی بنواتے ہیں جو کہ ان کا ذاتی حجام آکر بناتا ہے، ’ میں نے حکومت سے کہا ہے کہ وہ جب تک چاہیں گے میں یہاں ہی رہوں گا کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ سچ سامنے آنا چاہیے اور ان تمام باتوں کی حقیقت بھی واضح ہونی چاہیے جو میرے بارے میں اڑائی جاتی ہیں‘۔

ولید بن طلال نے انٹرویو لینے والے صحافی کو سوئٹ میں قائم کیے گئے اپنے دفتر کا بھی دورہ کرایا جو سونے کی اشیا سے مزین تھا جبکہ اس میں کھیلوں کا سامان اور دیگر اہم اشیا بھی پڑی ہوئی تھیں ۔ شہزادے نے بتایا کہ اسے قید کے دوران کسی قسم کی تکلیف نہیں دی گئی ، وہ یہاں اپنے اہلخانہ اور بزنس ایگزیکٹوز کے ساتھ رابطہ بھی کرسکتے ہیں ، ’ حکومت کو میرے معاملے میں ایک غلط فہمی تھی جو کہ صاف ہوچکی ہے ، میں اس وقت تک یہیں قیام کروں گا جب تک یہ سب کچھ ختم نہیں ہوجاتا، سعودی عرب میں نئی لیڈر شپ سامنے آرہی ہے جو پرانے نظام کو بدلنا چاہتی ہے ، مجھے اس سے کوئی مسئلہ نہیں ہے ،یہ سب جاری رہنا چاہیے‘۔

گزشتہ دنوں بعض شہزادوں کو سیٹلمنٹ کے نتیجے میں رہا کیا گیا ہے لیکن شہزادہ ولید کا کہنا ہے کہ ان کے معاملے میں تاخیر اس لیے ہورہی ہے کیونکہ وہ خود پر لگے تمام داغ دھو کر ہی باہر نکلنا چاہتے ہیں حالانکہ 95 فیصد کیس حل ہوچکا ہے۔ انہوں نے میڈیا پر خود پر ہونے والے تشدد یا جیل بھیجے جانے کی خبروں کی تردید کی اور کہا کہ وہ رہائی کے بعد انٹرویو دینا چاہتے تھے لیکن خبروں کے طوفان کے باعث ابھی انٹرویو دے رہے ہیں کیونکہ یہ قابل قبول نہیں ہے کہ کوئی بھی کچھ بھی الزام لگادے۔

شہزادہ ولید بن طلال نے رہائی کے بعد سعودی عرب میں قیام کرنے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ وہ کسی طور بھی سعودی عرب چھوڑ کر نہیں جائیں گے کیونکہ یہی ان کا ملک ہے۔ ’ یہ میرا ملک ہے، میرا خاندان، بچے ، پوتے پوتیاں یہیں پر ہیں، میرے اثاثے بھی سعودی عرب میں ہیں اس لیے اپنے ملک سے وفاداری پر سمجھوتہ نہیں کروں گا‘۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.