بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے مواخذے کی تیاری شروع

نئی دہلی: بھارت میں سپریم کورٹ کے 4 سینئر ججوں کی چیف جسٹس کےخلاف بغاوت میں نیا موڑ آگیا اور کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا مارکسسٹ نے چیف جسٹس  دیپک مشرا کے مواخذے کی تیاری شروع کردی ہے۔

بھارتی عدلیہ کی تاریخ میں گذشتہ دنوں اس وقت ایک اہم موڑ آیا تھا، جب چار سینئر ججز سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوے تھے، اس اقدام نے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلائے جانے والے ملک بھارت کے عدالتی نظام کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔

عدالتی معاملات درست انداز میں نہ چلانے اور چیف جسٹس کی جانب سے پسندیدہ ججز کو مخصوص کیس دیئے جانے پر چار ججوں نے چیف جسٹس سپریم کورٹ کو شکایتی خط لکھا لیکن کوئی جواب نہیں آیا، جس پرچیف جسٹس کے خلاف مواخذے کی باتیں گردش کرنے لگیں اور اب اس بغاوت میں نیا موڑ آگیا ہے۔

کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) نےچیف جسٹس سپریم کورٹ کے مواخذے کی تیاری شروع کردی ہے۔

پارٹی کے جنرل سکریٹری سیتارام یاچوری کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس دیپک مشرا کے مواخذے کے لیے دیگر سیاسی جماعتوں سے بھی بات چیت کر رہے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ 29 جنوری کو پارلیمنٹ کے اجلاس سے قبل یہ معاملہ بہت حد تک واضح ہوجائے گا۔

یاد رہے کہ رواں ماہ 12 جنوری کو بھارتی سپریم کورٹ کی تاریخ کے انوکھے واقعے میں 4 حاضر سروس ججز جسٹس جستی چیلا مسوار، جسٹس رنجن گوگوئی، جسٹس مدن لوکر اور جسٹس کرین جوزف نے چیف جسٹس دیپک مشرا کے خلاف پریس کانفرنس میں الزام عائد کیا تھا کہ عدلیہ میں پسندیدہ ججوں کو مخصوص کیسز دینے کے ساتھ ساتھ اہم مقدمات بھی جونیئرز ججز کو دیئے جارہے ہیں۔

سینئر ججز کا کہنا تھا کہ عدلیہ میں انتظامی معاملات درست طریقے سے نہیں چلائے جارہے، اس سلسلے میں چیف جسٹس سے بات کرکے معاملہ سلجھانے کی کوشش کی گئی تھی لیکن بھارتی چیف جسٹس نے کوئی توجہ نہیں دی۔

پریس کانفرنس کے دوران ججز کا مزید کہنا تھا کہ ‘چیف جسٹس کا مواخذہ کرنے والے ہم نہیں ہیں لیکن نہیں چاہتے کہ ہم پر الزام لگے کہ عدلیہ کے لیے آواز نہیں اٹھائی گئی’۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.