اہم خبرِیں

بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم کے ڈھول کا پول: نیپال نے کردیا

تاریخ شاہد ہے کہ بھارت کی ریشہ دوانیوں اور چیرہ دستیوں سے کبھی بھی پڑوسی ممالک محفوظ نہیں رہے ہیں لیکن جب سے انتہا پسند اور جنونی آر ایس ایس کی پروردہ بھارتیہ جنتا پارٹی برسر اقتدار آئی ہے اس وقت سے پڑوسی ممالک کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔

بھارت پہلے تو اپنی اوچھی حرکتوں سے پاکستان اور چین کو تنگ کرتا رہتا تھا لیکن اب اس نے نیپال پہ بھی ’کمند‘ ڈال دی جس کا منطقی نتیجہ یہ نکلا ہے کہ نیپال نے اپنا نیا نقشہ جاری کردیا جس کے تحت وہ علاقے جن پر پہلے بھارت قابض تھا، اب نیپال کا حصہ بن گئے ہیں۔ اس طرح نیپال نے بھارت کے ڈھول کا پول کردیا ہے۔

عالمی سیاسی مبصرین کے مطابق بھارت جو خطے کا ایس ایچ او بننا چاہتا تھا اس کے خلاف نیپالی حکومت کا اقدام دراصل مکروہ چہرے پر طمانچہ ہے۔

بھارت اور نیپال کے درمیان عرصے سے جاری قربتیں اس وقت دوریوں میں بدل گئیں جب  بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے آٹھ مئی کو کنٹرول لائن پر واقع لیپو لیکھ کے قریب سے ہو کر گزرنے والی اتراکھنڈ کیلاش مانسرور سڑک کا افتتاح کیا۔

سڑک کے افتتاح کے فوراً بعد ہی نیپال میں بھارت مخالف مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ ان مظاہروں کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ نیپال کے وزیراعظم کو آل پارٹیز کانفرنس بلا کر وضاحت کرنا پڑ گئی۔

۔۔۔ لیکن صورتحال اس قدر گھمبیر ہو چکی تھی کہ خالی وضاحت کام نہ آئی اور نیپال کی کابینہ نے بڑھتے ہوئے سرحدی تنازع کے تناظر میں اپنے ملک کا نیا نقشہ جاری کیا اور اس کی منظوری دے دی۔

نیپال کی جانب سے جاری کردہ نئے نقشے کے تحت لیپولیکھ، کالا پانی اورلیمپیادرا نیپال کا حصہ ہیں اور بھارت وہاں قابض ملک ہے۔ اس کے معنی یہ بھی ہوئے کہ مودی حکومت کے توسیع پسندانہ عزائم کی وجہ سے وہ علاقے بھی ہاتھ سے نکل گئے جن پر پہلے بھارتی ترنگا لہراتا تھا۔

لیپو لیکھ وہ جگہ ہے جہاں بھارت، نیپال اور چین کی سرحدیں آپس میں ملتی ہیں۔ نومبر 2019 میں بھی جب بھارت کی جانب سے جموں و کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کے بعد نقشہ جاری کیا گیا تھا تو نیپال نے اس وقت بھی اعتراض کیا تھا۔

بھارت کے مطابق کالا پانی نامی علاقہ اس کا حصہ ہے جو ریاست اترا کھنڈ میں شامل ہے لیکن نیپال کا مؤقف ہے کہ یہ اس کا جغرافیائی حصہ ہے۔

بھارت کا اپنے دفاع میں مؤقف ہے کہ اس نے نیپالی علاقے میں کوئی مداخلت نہیں کی ہے۔ اس کے مطابق جو سڑک تعمیر کی گئی ہے وہ کیلاش مانسرور کے روایتی یا ترا کے روٹ پر تعمیر ہوئی ہے۔

جب دو ممالک کے درمیان سرحدی تنازع کی وجہ سے صورتحال کشیدہ تھی تو عین اسی وقت بھارتی آرمی چیف نے یہ کہہ کر حالات کو مزید گھمبیر بنا دیا کہ نیپال سب کچھ کسی کی ایما پر کررہا ہے۔

نیپال کے نائب وزیراعظم نے بھارتی آرمی چیف منوج مکنڈ نرونے کے بیان کو اپنے عوام کی توہین قرار دیا۔

نیپال کے نائب وزیراعظم اور وزیر دفاع ایشور پوکھرل کا کہنا ہے کہ کالا پانی کے تنازع پر بھارتی فوج کے سربراہ کے بیان سے نیپالی گورکھوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔

اس وقت عملاً صورتحال یہ ہے کہ چین کی افواج بھارتی فوج کے مدمقابل کھڑی ہیں جب کہ چینی صدر شی جن پنگ نے فوج کے اعلیٰ سطح کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ چینی افواج کو کسی بھی قسم کی ہنگامی صورت حال کے لئے ہمہ وقت تیار رہنا چاہیئے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی وقت جنگ چھڑ سکتی ہے۔

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کافی عرصے سے عالمی دنیا کو خبردار کرتے آرہے ییں کہ مودی حکومت اپنے توسیع پسندانہ عزائم کی تکمیل کے لیے نازی نظریات پر عمل پیرا ہے۔ انہو نے دنیا کو متعدد مرتبہ بتایا ہے کہ بھارت سے فالس فلیگ آپریشن کا خطرہ ہے۔

پاک فوج نے ابھی کچھ دیر قبل بھارت کے ایک جاسوس ڈرون کو مار گرایا ہے جو ایل او سی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستان کی حدود میں داخل ہو گیا تھا۔

درج بالا صورتحال اس بات کی عکاس ہے کہ انتہا پسند و جنونی مودی حکومت بیک وقت چین، پاکستان اور نیپال سے کسی نہ کسی طرح تنازع میں الجھ گئی ہے لیکن کس کی ایما پر؟ یقیناً عالمی سیاست پہ نگاہ رکھنے والوں کی اکثریت اس سے وقف ہے لیکن کیا وہ اس چومکھی لڑائی کو لڑ پائے گی؟ اور یا پھر خود بکھر جائے گی؟ آنے والا وقت بتائے گا۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.