ایک دن ایسا آئے گا کہ بھارت میں وزیر اعظم اور صدر مسلمان ہوں گے ،بنواری لال سنگھال

بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی مسلمانوں کی مخالفت میں اس حد تک آگے چلی گئی ہے کہ ملک پر قبضے کی سازش کا الزام لگادیا۔

ریاست راجستھان میں بی جے پی کے رکن بنواری لال سنگھال نے ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی مسلمان ایک منصوبے کے تحت آبادی میں اضافہ کررہے ہیں، وہ اپنی آبادی بڑھاکر ہرانتخابی حلقے پر قابض ہونا چاہتے ہیں۔

بنواری لال سنگھال کی جانب سے یہ بیان لوک سبھا ضمنی انتخاب سے ایک دن قبل سامنے آیا ہے۔

ب

اُن کا کہنا تھا کہ مسلمان اپنی آبادی بڑھاکر 2030ء کے انتخابات میں ہر انتخابی حلقے پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔

بنواری لال کا کہنا تھا کہ اگر اس چیز کو نہ روکا گیا تو ایک وقت ایسا آئے گا کہ بھارت کے صدر ، وزیرا عظم کے ساتھ ساتھ تما م ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ بھی مسلمان ہوں گے۔

بی جے پی رہنما نے اس خوف کا اظہار بھی کیا کہ اگر مسلمان قانون ساز بن گئے تو ہندو بھارت کے ثانوی شہری ہوجائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اگر کسی مسلمان جوڑے کی اولاد نہ ہوتو اولاد کے حصول کے لیے دوسری شادی کرنا مسلمانوں کے نزدیک کوئی بڑی بات نہیں ہے۔

بی جے پی لیڈر کا کہنا تھا کہ مسلمان 12سے 14بچے پیدا کررہے ہیں جبکہ ہندو خاندان ایک یا زیادہ سے زیادہ دو بچوں تک محدود ہیں۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.