نیوزی لینڈ: ہیلمٹ پہن کر گیند بازی کرنے والا باوٴلر سامنے آ گیا

نیوزی لینڈ مقامی کرکٹ ٹیم اوٹاگو وولٹس کے بولر وارن بارنس ہیلمٹ پہن کر بائولنگ کرواتے ہیں اور پرامید ہیں کہ کرکٹ انتظامیہ بولرز کی حفاظت کیلئے بھی جلد ہیلمٹ کا بندوست کردے گی ۔ تفصیلات کے مطابق مقامی کرکٹ ٹیم اوٹاگو وولٹس کے بولر وارن بارنس نے ایک ماسک نما ہیلمٹ گذشتہ سال دسمبر میں شروع کیا جب پریکٹس سیشنز میں کئی مواقع آئے جب گیند ان کے چہرے کے بہت قریب سے گزری۔25 سالہ بارنس نے بتایا کہ نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ اس آئیڈیا میں دلچسپی رکھتا ہے۔انھوں نے کہا ’بلے بازوں اور امپائرز کے تحفظ کے لیے کئی اقدامات کیے گئے ہیں اور بولرز کی باری ہے۔‘ہیلمیٹ بنانے والی کمپنیوں نے نومبر 2014 میں آسٹریلوی بلے باز فلپ ہیوز کی موت کے بعد ہیلمیٹ کے ڈیزائن میں تبدیلیاں متعارف کرائیں تھیں جب وہ شارٹ پچ گیند گردن پر لگنے سے ہلاک ہوگئے تھے۔ انگلینڈ کرکٹ بورڈ نے بھی سنہ 2015 میں لوہے کی جالی لگے ہوئے ہیلمیٹ کو لازمی قرار دیا تھا۔ اس حکم کی ضرورت اس وقت محسوس ہوئی تھی جب انگلینڈ کے

سٹوارٹ براڈ اور کریگ کئیس ویٹر کے چہرے پر گیند لگی تھی۔ بارنس نے کہا کہ ’ٹی 20 میں خاص طور حکام نے کھلاڑیوں کے تحفظ کے لیے اقدامات اٹھائے ہیں۔ بولرز گیند کے سب سے قریب ہوتے ہیں اور سب سے زیاد خطرہ ان کو ہوتا ہے۔یہ بہت جلد ممکن ہے کہ بولرز کے لیے بھی حفاظتی اقدامات لیے جائیں۔‘بارنس نے بتایا کہ ان کے کوچ راب والٹر نے ان کے بولنگ ایکشن کو دیکھتے ہوئے انھیں ماسک پہننے کا مشورہ دیا۔’میں جس انداز میں گیند کرتا ہوں اس کے بعد میرا چہرا نیچے رہتا ہے اور جب بلے باز شاٹ کھیلتا ہے تو میں اس وقت تک گیند کو نہیں دیکھ پاتا۔ اس پر میرے کوچ نے مجھے ماسک پہننے کا مشورہ دیا۔‘انھوں نے اپنے تجربے کے بارے میں بتایا: ’شروع شروع میں مجھے ماسک پہن کے بولنگ کرنے میں دشواری ہوئی تھی۔ میں نے نیٹس میں اسے پہن کر بولنگ شروع کی تو اس وقت کافی دقت ہوئی تھی تو میں اپنے ماسک ڈیزائنر کے پاس دوبارہ لے گیا۔ اس نے کچھ تبدیلیاں کیں جس کے بعد اب یہ ٹھیک ہو گیا ہے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.