نیویارک: سکھوں کے گوردواروں میں بھارتی عہدیداران کی شرکت پرپابندی

نیویارک:  سکھوں نے اپنے گوردواروں میں بھارتی سفارتکاروں اور حکومتی عہدیداران کے داخلے اور خالصتان تحریک نے آغاز کی تقریبات میں شرکت پر پابندی عائد کردی۔
ذ رائع کے مطابق سکھوں نے امریکہ بھر میں موجود اپنے 100 قریب گوردواروں میں بھارتی سفارتکاروں اور حکومتی عہدیداران کو اور ان کے اہلکاروں کے داخل ہونے اور خالصتان تحریک کے آغازکی تقریبات میں ان کی شرت پر پابندی عائد کردی ہے۔امریکہ میں مقیم سکھوں کی تنظیموں کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام 1984 میں بھارتی فوج سکھوں کے مذہبی مقام گولڈن ٹیمپل پر حملے اور بھارتی آئین میں سکھوں کو ہندو قرار دینے کے ردعمل میں اٹھایا گیا۔اس حوالے سے تحریک سکھ وآرڈینیشن میٹی آف ایسٹ وسٹ اور امریکن گوردوارہ پربندھ میٹی نے مشترہ طور پر پیش کی، یہ تنظیمیں بھارت میں سکھوں کے علیحدہ وطن خالصتان کے قیام کی جدوجہد کر رہی ہیں۔
امریکہمیں مقیم سکھوں کی تنظیم کے قانونی مشیر گرپتونت سنگھ پنوں کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارتی سفارتکار اسی حکومت کی نمائندگی کرتے ہیں جو سکھوں کی نسل کشی کی ذمہ دار ہے۔ بیان میں الزام عائد یا گیا ہے کہ بھارتی حکام امریکا اور کینیڈا میں مقیم سکھوں کو ہراساں کر رہے ہیں، امریکامیں سکھوں کی عبادت گاہوں میں بھارتی حکام کے داخلے پر پابندی کی تحریک کو یورپ میں پھیلایا جائے گا۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.