برطانیہ میں مسلم خاتون شیف کو نسل پرستی کا سامنا

بنگلا دیشی نژاد برطانوی شیف نادیہ حسین سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹوئٹر پر نسل پرستی کا نشانہ بن گئیں۔

شیف نادیہ نے سال 2015 میں ‘دی گریٹ برٹش بیک آف’ نامی بیکنگ مقابلہ جیتا تھا جس کے بعد انہوں نے مقبولیت حاصل کرتے ہوئے ٹوئٹر پر ایک لاکھ 70 ہزار سے بھی زائد فولورز بنائے۔

برطانوی شیف نادیہ حسین سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹوئٹر پر اُس وقت نسل پرستی کا شکار بنیں جب ان سے پوچھا گیا کہ آخر وہ اپنے حجاب کی احتیاط کیسے کرتی ہیں اور بال کیسے کٹواتی ہیں؟

شیف نادیہ نے جواب دیا ک ان کی ہئیرڈریسر ایک خاتون ہیں جو ان کے ساتھ بہت تعاون کرتی ہیں اور اگر کوئی مرد آجائے تو پردہ کھینچ دیتی ہیں۔

شیف نادیہ کے اس جواب پر نفرت انگیز پیغامات کا ایک سلسلہ شروع ہوگیا جس میں ان پر قدامت پسند اور برطانوی کلچر کا حصہ نہ ہونے کا الزام دھر دیا گیا۔

کچھ صارفین نے تو یہ تک کہہ دیا کہ مسلمانوں کو اپنے ممالک میں ہی رہنا چاہیے اور ساتھ ہی نادیہ سے کہا کہ وہ واپس اپنے وطن کیوں نہیں چلی جاتیں کیونکہ ان کا کلچر یہاں کے کلچر سے مطابقت نہیں رکھتا۔

جس پر نادیہ حسین نے جواب دیا کہ وہ حجاب پہن کر کوئی ڈھونگ نہیں رچا رہیں بلکہ بحیثیت ایک آزاد شہری، اپنی مرضی سے جینے کے حق کا استعمال کررہی ہیں۔

کچھ صارفین نے ‘گھر جاؤ، گھر جاؤ’ کی رٹ لگا لی جس پر شیف نادیہ نے کرارا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ‘کون سے گھر جاؤں؟ میں اپنے گھر میں ہی ہوں’۔

نادیہ نے مزید کہا کہ اگر آپ کو نفرت ہی پھیلانی ہے تو کوئی اور بات لے کر آئیں، میں ‘گھر جانے’ کا سن سن کر تھک گئی ہوں۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.