مودی کے پاکستان پر الزمات کی بوچھار

حیدر آباد : بھارت کے وزیراعظم نریندرا مودی شروع سے  ہی پاکستان کے دشمن ہیں۔ اور یہ بات پاکستان میں رہنے والے بخوبی جانتے ہیں۔لیکن انتخابات کے نزدیک تو ان کا رویہ پاکستان کے خلاف کافی حد تک جارحانہ ہو جا تا ہے۔  گجرات کے ریاستی انتخابات میں بھی مودی کے ساتھ کچھ ایسا ہی ہوا، انہوں نے پاکستان پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ انڈین نیشنل کانگریس کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے تاکہ الیکشن میں حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو شکست سے دوچار کیا جاسکے۔
شمالی گجرات کے شہر پالن پور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نریندرا مودی نے پاکستان پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ  آرمی کے ریٹائرڈ ڈی جی ارشد رفیق گجرات میں سونیا گاندھی کے سیاسی مشیر احمد پٹیل کو وزیر اعلیٰ دیکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری اور پاکستانی ہائی کمشنر اس سلسلے میں کانگریسی رہنماﺅں سے ملاقاتیں بھی کر چکے ہیں۔

مودی نے اس ملاقات کا احوال بھی انتہائی شاطر کہانی نویس کی طرح بیان کیا اور کہا کہ پاکستان کی طرف سے احمد پٹیل کو گجرات کا وزیر اعلیٰ بنانے کی کوششیں ہورہی ہیں۔ خورشید محمود قصوری اور پاکستان کے بھارت میں تعینات ہائی کمشنر نے سابق بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ اور سابق نائب صدر حامد انصاری سے مانی شنکر ائیر کے گھر پر ملاقات کی۔ ’اس ملاقات کے اگلے ہی روز کانگریسی لیڈرمانی شنکر کی جانب سے مجھے نیچ قرار دیا گیا‘۔

مودی نے مزید کہا کہ پاکستانی رہنماﺅں اور کانگریسی لیڈرز کے مابین ملاقات تین گھنٹے سے زائد جاری رہی جو کہ انتہائی تشویش کی بات ہے۔ ’ ہمیں پاکستان کی وجہ سے بہت سے مسائل کا سامنا ہے لیکن کانگریسی لیڈرز ان کے ساتھ بند دروازوں کےپیچھے ملاقاتیں کرتے ہیں، اگر پاکستانی حکام سے ملاقات کرنی ہی تھی تو حکومت کا نمائندہ اس میں ضرور شریک ہونا چاہیے تھا‘۔
واضح رہے کہ مانی شنکر ائیر نے بھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی کو اپنے ایک بیان میں ”نِیچ“ قرار دیا تھا جس پر بھارت میں خوب ہنگامہ برپا ہوا۔ اسی ہنگامے کے باعث انہیں کانگریس کی جانب سے معطل کردیا گیا تھا جس کے بعد انہوں نے اپنے الفاظ پر معافی  مانگ لی تھی۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.