Daily Taqat

امریکا کی مقامی عدالت نے نائن الیون واقعے میں ایران کو براہ راست ملوث قرار دے دیا

17برس قبل امریکہ میں پیش آئے دہشتگردی کی تاریخ کے بدترین واقعے نائن الیون کے مقدمے کی سالہا سال سے سماعت کرنے والی ایک امریکی عدالت نے ایران کو واقعے میں براہ راست ملوث قرار دے ڈالا ہے۔ غیر ملکی ذرائع کے مطابق ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ کی وفاقی عدالت کے جج جارج ڈینیلز نے اپنے فیصلے میں تحریر کیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران، پاسداران انقلاب اور ایران کا مرکزی بینک دہشت گردوں کی معاونت کے ذمہ دار ہیں۔ اس دہشت گردی کی وجہ سے ہزاروں افراد موت کے منہ میں چلے گئے۔ اس موقع پر متاثرہ خاندانوں کے وکیل رابرٹ ہافیل نے کہا کہ وفاقی عدالت اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ ایران نے القاعدہ کو مادی معاونت دی۔ وکیل کا کہنا تھا کہ

شواہد سے یہ ثابت ہوگیا ہے کہ ایران کی طرف سے القاعدہ کو دی گئی مادی معاونت نائن الیون دہشتگردی کی وجہ بنی اور اس دہشت گردی کے نتیجے میں ہونے والے تمام نقصان۔ اموات اور زخمی ہونے والے افراد کی ذمہ داری ایران پر ہے۔ عدالت نے کہا کہ اس فیصلے کی روشنی میں ہر متاثرہ شریک حیات کو سوا کروڑ ڈالر، ہر بچے کی موت کے لیے 85 لاکھ ڈالر اور ہر بھائی یا بہن کی موت کے لیے ساڑھے 42 لاکھ ڈالر ادا کیے جائیں۔ اس طرح سے ایرانی حکومت کو مجموعی طور پر نائن الیون کے متاثرین کو چھ ارب ڈالر جو کہ پاکستانی پونے ساتھ کھرب روپے بنتے ہیں ادا کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »