کھرب پتی شہزادہ الولید بن طلال کیساتھ سمجھوتہ نہ ہوسکا

ریاض : سعودی عرب کے سرکاری خزانے میں سو ارب ڈالر کی آمدنی کے معاملے پر انسداد بدعنوانی مہم کے دوران گرفتار دو سو شہزادوں کی سمجھوتے کے تحت رہائی کا آغاز کردیا گیا ہے۔ عرب ٹی وی نیٹ ورک کے بانی ولید الابراہیم اور شاہی کورٹ کے سابق سربراہ خالد التویجری کو بھی رہا کردیا گیا، تاہم کھرب پتی شہزادہ الولید بن طلال کے ساتھ سمجھوتہ نہ ہوسکا۔

سعودی عرب میں کرپشن الزامات میں گرفتار سعودی تاجر ولید البراہیم، فوازالحکیر، شہزادہ ترکی بن ناصر اور خالد التویجری نے حکومت سے ڈیل کرلی ذرائع کے مطابق کرپشن الزامات میں گرفتار تینوں افراد نے سعودی حکومت سے ڈیل کرلی ہے۔ ارب پتی شہزادے ولید بن طلال کہتے ہیں کہ آئندہ چند روز کے دوران وہ بھی رہا ہو جائیں گے، ا مید ہے کہ وہ اپنے خلا ف غلط کاموں کے الزامات سے بری ہو جائیں گے

انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ وہ سعودی حکام سے بات چیت میں اپنی بےگناہی پرقائم رہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ان کی کمپنی کنگڈم ہولڈنگ پر ان کا مکمل کنٹرول رہے گا ۔ انہوں نے دوران حراست بد سلوکی کے الزامات کی بھی تردید کی۔

ایم بی سی ٹیلی وژن کے مالک ولید البراہیم ، فیشن اسٹور کے مالک فواز الحکیر ، رائل کورٹ کے سابق سربراہ خالد التویجری اور شہزادہ ترکی بن ناصر بھی شامل ہیں۔

گزشتہ سال سعودی عرب میں کرپشن کے خلاف کریک ڈاؤن میں شہزادوں کے ساتھ ساتھ مختلف کاروباری شخصیات کو حراست میں لیا گیا تھا۔ ان میں دنیا کے امیر ترین افراد میں شامل شہزادہ ولید بن طلال بھی شامل ہیں۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.