اہم خبرِیں
پاکستان کا 73واں جشن آزادی، ملک بھر میں چودہ اگست کا شاندار ا... بھارت نے امن کوداؤ پرلگادیا، ڈی جی آئی ایس پی کے الیکٹرک خریدار کی جانچ پڑتال کی جائے، چیف جسٹس آج بھارت میں ایک ہندو اسٹیٹ جنم لے رہی ہے، شاہ محمود قریشی ترکی اورفرانس کی افواج آمنے سامنے، فوجی جھڑپ کا خطرہ خیبرپختونخوا اور پنجاب کو بجٹ خسارے کا سامنا یوٹیوب نے ای میل سروس بند کردی ڈاکٹروں کی طرح سوچنے والا "اے آئی سسٹم" تیار نازیہ حسن کو مداحوں سے بچھڑے 20 برس بیت گئے پاکستان انگلینڈ دوسرا ٹیسٹ، آج ساؤتھمپٹن میں شروع ہو گا خیبرپختونخوا، انسداد پولیومہم شروع کورونا وائرس کے مزید 730 کیسز رپورٹ تین ہزار سال قدیم واٹر سپلائی سسٹم پاکستان میں کہاں موجود ہے؟ سونے کی قیمتوں میں بڑی کمی انگلینڈ کے خلاف دوسرا ٹیسٹ، قومی ٹیم کے اسکواڈ کا اعلان ایران ہتھیاروں کا استعمال بند کرے، امریکا کوئٹہ: دکان پر دستی بم حملہ،بچہ جاں بحق سندھ بھر میں 9 اور 10 محرم کو ڈبل سواری پر پابندی عائد قرضوں کی حد 50 لاکھ سے بڑھا کر ڈھائی کروڑ کردی گئی اونرشپ کے بغیر ہم کامیاب نہیں ہو سکتے، عمران خان

استنبول: آیا صوفیہ میں 86 سال بعد نماز جمعہ ادا کر دی گئی، ہزاروں افراد کی شرکت

انقرہ: (ویب ڈیسک) استنبول کی آیا صوفیہ گرینڈ مسجد میں 86 سال بعد نماز جمعہ ادا کر دی گئی، ترک صدر رجب طیب اردوان سمیت شہریوں کی بڑی تعداد نے نماز ادا کی، خطبہ جمعہ اور دعا کے دوران‌ روح‌ پرور مناظر دیکھے گئے۔

یاد رہے کہ ترک عدالت نے 11 جولائی کو آیا صوفیہ کو مسجد میں تبدیل کرنے کی اجازت دی تھی جس کے بعد ترک صدر رجب طیب اردوان نے عمارت کو مسجد میں تبدیل کرنے کی منظوری دی تھی۔

آیا صوفیہ عمارت کو 1934 میں مصطفیٰ کمال اتاترک نے میوزیم میں تبدیل کردیا تھا، اس سے قبل مذکورہ عمارت سلطنت عثمانیہ کے قیام سے مسجد میں تبدیل کی گئی تھی۔

استنبول میں واقع تاریخی عمارت 1453 سے قبل 900ء سال تک بازنطینی چرچ تھی اور کہا جاتا ہےکہ مذکورہ عمارت کو سلطنت عثمانیہ کے بادشاہوں نے پیسوں کے عوض خرید کر مسجد میں تبدیل کیا تھا۔

مگر پھر جنگ عظیم اول کے خاتمے کے بعد سلطنت عثمانیہ کے بکھرنے اور جدید سیکولر ترکی کے قیام کے بعد مصطفیٰ کمال اتاترک نے مسجد کو 1934ء میں میوزیم میں تبدیل کردیا تھا۔

آیا صوفیہ مسجد شریف کبیرہ کے نام سے کھولے گئے ٹوئٹر اکاؤنٹ کا افتتاح ’’بسم اللہ‘‘ کے ساتھ کیا گیا جسے ترک صدر رجب طیب اردوان نے اپنے اکاؤنٹ سے بھی شیئر کیا۔

ترک میڈیا کے مطابق آیا صوفیا مسجد میں نماز جمعہ کے موقع پر اطراف میں لوگوں کا رش ہونے کی وجہ سے مرد و خواتین کے لیے مختص کی گئی تمام جگہیں مکمل طور پر بھر گئیں۔

میڈیا کے مطابق عوام کی بڑی تعداد کے باعث مسجد آیا صوفیا کے احاطے میں مزید افراد کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی اور ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے مسجد کے احاطے سے نماز جمعہ ادا کی۔

چرچ سے مسجد اور پھر میوزیم کے بعد دوبارہ مسجد میں تبدیل ہونے والی عمارت میں 24 جولائی کو 86 سال بعد نہ صرف نماز جمعہ ادا کی گئی بلکہ اسی دن عمارت میں تقریبا 9 دہائیوں بعد اذان بھی دی گئی۔

ترکی میں آج تاریخ رقم ہوئی، رجب طیب اردوان نے مسجد آیا صوفیہ کی عمارت پر نصب نئی تختی کی نقاب کشائی کی۔ 86 سال بعد گرینڈ مسجد میں نماز جمعہ کے لیے جمعرات کی صبح سے ہی لوگ جمع ہونا شروع ہو گئے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔

خطبہ جمعہ کے دوران امام جماعت نے طویل دعا کروائی جس میں مسلم امہ کے دوبارہ عروج کی دعائیں مانگی گئیں۔ لوگوں نے اشکبار آنکھوں سے دنیا بھر میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم سے نجات اور دوبارہ ایک امت بننے کی التجا کی۔

نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے ترک صدر رجب طیب اردوان سمیت اعلیٰ حکومتی عہدیداروں نے بھی خصوصی شرکت کی جب کہ ترک صدر نے اس موقع پر تلاوت قرآن پاک بھی کی۔

لوگوں نے ترک صدر اور عثمانی خلیفہ کی تصاویر والی شرٹس پہن رکھی تھیں۔ اس تاریخی موقع پر وبا سے بچنے اور سکیورٹی کے لیے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔

یاد رہے کہ جمعرات کو ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے اس عمارت کا دورہ کیا تھا اور اسے نمازِ جمعہ کے لیے کھولنے کے حوالے سے کیے جانے والی انتظامات کا جائزہ لیا تھا اسی دن انھوں نے عمارت کے باہر ’آیا صوفیہ گرینڈ موسک‘ کی تختی بھی اپنے ہاتھوں سے نصب کی

برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق نمازیوں کی آمد کا سلسلہ جمعرات کی شب سے ہی شروع ہو گیا تھا اور کئی افراد نے آیا صوفیہ کے باہر نصب حفاظتی باڑ کے باہر ہی نمازِ فجر ادا کی


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.