ایران کا اپنے سائنس دان کے قتل کا بدلہ لینے کا اعلان

تہران: ایران کے صدر حسن روحانی کے بعد اب تازہ بیان میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے بھی جوہری سائنس دان محسن فخری زادہ کے قتل کا بدلہ لینے کا اعلان کیا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنی ٹوئٹ میں ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ خامنہ ای نے ملک کی ایجنسیوں پر سائنس دان کے قتل کے ذمہ داروں کا تعین کرکے اُن کے خلاف جوابی کارروائی پر زور دیا ہے۔ روحانی پیشوا آیت اللہ خامنہ ای نے مقتول جوہری سائنس دان محسن فخری زادہ کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران اپنے ’محسن‘ پر فخر کرتا ہے اور اُن کے مشن کو ہر صورت ممکن کرنے کا عہد کرتا ہے۔

ایران کے سپریم لیڈر نے ملک کی خفیہ اور تفتیشی ایجنسیوں کو سائنس دان کے قاتلوں، سہولت کاروں اور محرکات کا پتہ لگانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ داروں کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی جائے۔ ایرانی سپریم کمانڈر آیت اللہ خامنہ ای سے قبل صدر حسن روحانی بھی ‘مناسب وقت’ پر محسن فخری زادہ کے قتل کا بدلہ لینے عندیہ دے چکے ہیں۔ ٹیلی وژن پر قوم سے خطاب میں ایرانی صدر نے سائنس دان کے قتل کا الزام اسرائیل پر عائد کیا تھا۔

ایران کی جانب سے محسن فخری زادہ کے قتل کے الزام اسرائیل پر عائد کیے جانے پر اسرائیل، امریکا، پینٹاگون یا کسی دوسرے ملک کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ تجزیہ کار اس خاموشی کو کسی طوفان کا پیش خیمہ بتاتے ہیں۔ اس سے قبل ایران کی طاقتور ترین قدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کو بغداد ایئرپورٹ پر امریکا نے ایک میزائل حملے میں قتل کردیا تھا جس پر ایران نے بدلہ لینے کی دھمکی دی تھی اور عراق میں امریکی سفارت خانے اور فوجی اڈوں پر حملے ہوئے تھے۔

واضح رہے کہ ایران میں جوہری پروگرام کے سربراہ سائنس دان محسن فخری زادہ کو گھات لگائے حملہ آوروں نے گاڑی پر حملہ کرکے قتل کردیا تھا۔ جوہری سائنس دان کو اسرائیل دشمن سمجھا جاتا تھا اور وزیر اعظم نیتن یاہو نے بھی سائنس دان کو قتل کی دھمکی دی تھی۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.