بھارت کو پھر منہ کی کھانی پڑی، مسعود اظہر، لشکر طیبہ کا نام مشترکہ اعلامیہ میں شامل نہیں کریں گے: روس، چین کا اعلان

چین اور روس نے بھارتی خواہش پر پانی پھیر دیا ، چین بھارت اور روس مابین دہشت گردی کے حوالے سے فیصلہ کن اور سخت ترین اقدامات اٹھانے کیلئے تعاون پر زوردیا ہے ، بھارتی خواہش کے باوجود سہ فریقی مشترکہ اعلامیہ میں مولانا مسعوداظہر اور لشکر طیبہ کا ذکر نہیں کیا گیا۔  پاکستان کی مخالفت میں بھارت کو ایک بار پھر منہ کی کھانی پڑی ہے ،نئی دہلی میں جاری کئے جانے والے سہ فریقی مشترکہ اعلامیہ میں بھارت کی وزیر خارجہ سشما سوراج کی شدید خواہش کے باوجود لشکر طیبہ اور مولانا مسعود اظہر بارے کوئی لفظ بھی شامل نہیں کیا جا سکا۔چینی وزیر خارجہ وانگ ای روسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف اور بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج مابین دہشت گردی کے حوالے سے فیصلہ کن اور سخت ترین اقدمات اٹھانے کے لئے باہمی تعاون میں فروغ کیلئے اتفاق کیا گیا لیکن مذاکرات کے مشترکہ اعلامیہ میں بھارتی حکومتی مشاورت کو رد کرتے ہوئے چین اور روس کے وزرائے خارجہ نے مولانا مسعود اظہر اور لشکر طیبہ کو دہشت گرد قرار دینے کے بارے میں کوئی بھی لفظ یا فقرہ نہیں کہا جبکہ بھارتی وزیر خارجہ کی یہ شدید خواہش تھی کہ خطے کے ان تین بڑے ممالک کے مابین ہونے والے مذاکرات میں پاکستان کو دہشت گردی پروان چڑھانے والا ملک قراردیا جائے لیکن دونوں ممالک نے بھارت کی اس خواہش کو درخود اعتنا سمجھا۔واضح رہے کہ مولانا مسعود اظہر کو بھارتی حکومت اپنی جانب سے بین الاقوامی دہشت گرد قرار دے چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین، روس، بھارت تعاون میکنزم کو انتہائی اہم سمجھتا ہے اور اسے امید ہے کہ تینوں ممالک اس پلیٹ فارم پر سٹریٹجک رابطے اور کمیونیکیشن کو بڑھاسکتے ہیں۔ دونوں وزرائے خارجہ نے جزیرہ کوریا کی صورتحال اور شام کے مسئلے اہم امور کے بارے میں بھی تبادلہ خیال کیا۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.