انڈیا نےپاکستان میں جاسوسی کیلئے لڑکیوں کا سہارا لینا شروع کردیا

لاہور: نیم عریاں لڑکیوں کے ذریعے پاکستانی نوجوانوں کو پھانسنے کے لیے  ”را“  نے نئے منصوبے پر عمل شروع کردیا، اس سارے عمل کے پیچھے ایک سازش چھپی ہوئی ہے،جتنی لڑکیوں کے نام اس میں سامنے آئے ہیں وہ سب کی سب ”ہندو نام رکھتی ہیں۔ان میں درج ذیل نام شامل ہیں۔مثلاًپائل پٹیل، پنکی کماری، ریکھا سنگھ، اینجل چاندنی، پریا سنگھ پریہار، سمن سسرا، ریشماں پروین، پوجا سنگھ، کاویتا سنگھ، پوجا گاتھ، نیتوکماری، نیشا کماری، پٹیل شیتل، سنیتا کماری، دیوسینی، کانیکاورشے، سیرارانی، سنگھیتا وگھانی، سونو سونانی، ریتو شرما وغیرہ۔  ایسی لڑکیوں کی روزانہ کی بنیاد پر 30,20 تصاویر آ رہی ہیں۔ تصاویر کے نیچے ای میل ایڈریس اور بعض کے ساتھ تو ٹیلی فون نمبر بھی لکھے ہوئے ہیں۔ یہ دعویٰ سینئر صحافی و تجزیہ نگار ضیاء شاہد نے اپنے پروگرا م میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہاکہ70ءاور80ءکی دہائی میں روس کی خفیہ ایجنسی کے بی جی نے لڑکیوں کے ذریعے جاسوسی کا نظام پھیلایا۔ روس سے 10 ہزار لڑکیاں ٹرینڈ کر کے افغانستان بھیجی گئیں جو اہم لوگوں کو قابو کر کے ان کے بارے معلومات ماسکو پہنچاتی تھیں دوسری جنگ عظیم میں جاسوسی کے لئے سب سے زیادہ لڑکیاں استعمال کی گئیں۔ اٹلی کے ایک دانشور نے ”دی پرنس“ کے نام سے کتاب لکھی جس میں حکمرانی کے اصول لکھے۔ ضیاءالحق نے بھی ہر طریقہ اختیار کیا۔ پانچ دنوں تک ٹی وی پر کرکٹ میچ دکھایا جاتا رہا۔ تا کہ لوگ سیاسی معاملات سے دور رہیں،جنرل مجیب الرحمن نے مجھے بتایا کہ یہ فوج کی پالیسی ہے کہ لوگوں کا دھیان دوسری طرف لگا دو۔ ”دی پرنس“ میں لکھا ہے کہ جب عوام بادشاہ کے خلاف ہو جائیں تو میلے ٹھیلے اور کھیلوں کا انعقاد کرو۔ تا کہ لوگ دوسری طرف متوجہ ہو جائیں اور سب کچھ بھول جائیں۔ بھارت ایک قدم آگے ہے۔ بھارتی گورو جس کا نام ”چانکیا“ تھا اس نے کتاب میں لکھا مخالف راجہ کے محل میں خوبصورت لڑکیاں داخل کر دو، کوشش کرو خوبصورت لڑکی راجہ کے بستر تک پہنچ جائے، پھر تمہیں راجہ کی ایک ایک بات معلوم ہوتی رہے گی۔

انہوں نے بتایاکہ ”را“ کی کوشش فحاشی نہیں بلکہ ایک منظم سازش ہے۔ جو ننگ دھڑنگ لباس میں دوستوں کو مدعو کر رہی ہے اور دوستی کرنے کے لئے دعوت دے رہی ہے۔ اگر پانچ دس ہزار ہی مرد اس طرف راغب ہو جاتے ہیں اور کچھ بھارت بھی ہو آتے ہیں۔ تو وہ اپنے رابطوں کے حساب سے 50 ہزار اور لاکھ تک پھیل جائیں گے اور آسانی سے ”را“ کے لئے مخبری کریں گے۔ عشق محبت اور چیٹنگ میں وہ سب کچھ بھلا دیں گے۔ یہاں بیٹھ کر وہ ”را“ کے ایجنٹ بن جائیں گے۔ اسی ”را“ نے 50 بلین بلوچستان میں بدامنی پھیلانے کے لئے مختص کئے ہیں ہماری آئی ٹی نے ایک مرتبہ ”گوگل“ پر پابندی لگا دی تھی۔ آئی ٹی منسٹری کو اس معاملے کو فوری طور پر پکڑنا چاہئے۔ دنیا ہماری فوج اور آئی ایس آئی کو مانتی ہے۔ یہ بہت اہل اور سمجھدار لوگ ہیں اسے فوری طور پر ”بلاک“ کریں۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.