آئی لومسلم کہنا جرم بن گیا؛دباؤ میں آکرلڑکی نے خودکشی کرلی

بھارت میں بی کام پارٹ ون کی طالبہ نے انتہا پسند ہندوؤں کے دباؤ کے زیراثرآکراپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا۔ طالبہ کا جرم صرف اتنا تھا کہ اس نے مسلمانوں کی تریف کی تھی۔

متعصب بھارت میں مسلمانوں کی تعریف کرنا بھی جرم بن گیا۔ بھارتی ریاست کرناٹکا کے ضلع چیکماگلورکی رہائشی 20 سالہ دھنیاشری نامی لڑکی نے انتہا پسند ہندوؤں کی جانب سے ہراساں کیے جانے کے بعد خودکشی کرلی ۔

دھنیاشری واٹس ایپ پر ایک پبلک گروپ میں بات کر رہی تھی جہاں مذہبی معاملات پرگفتگوکے دوران اس نے مسلمانوں کی حمایت کردی۔ طالبہ نے ’’آئی لو مسلمز‘‘ کا پیغام دیا جس پر گروپ میں موجود متعصب افراد ناراض ہونے لگے۔

گروپ کے ایک رکن سنتوش نے طالبہ کوخبردارکیا کہ مسلمانوں سے کوئی تعلق نہ رکھو۔ تنگ نظر سنتوش نے گروپ چیٹ کا سکرین شاٹ لیکرچند انتہاپسند ہندو تنظیموں تک پہنچا دیا۔ اسکرین شاٹ ملنے کے بعد بی جے پی یوتھ ونگ کے کچھ رہنماؤں نے طالبہ کے گھرجا کرفیملی کودھمکایا کہ لڑکی کا کسی مسلمان لڑکے کے ساتھ تعلق ہے۔ اس بات کےاگلے ہی روزدھنیا شری نے

ذہی دباؤ میں آ کرخودکشی کرلی۔

طالبہ نے موت کو گلے لگانے سے پہلے ایک تحریرچھوڑی جس میں لکھا کہ میرا کسی مسلمان نوجوان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس واقعے نے میری زندگی برباد کردی ہے۔

پولیس کو شکایت کے دوران لڑکی کی والدہ نے بتایا کہ 4 جنوری سےمیری بیٹی کو دھمکایا جا رہا تھا۔ سنتوش نے فون پر اسے یہ بھی کہا کہ تمہاری بعض تصویروں میں تم نے سر پر اسکارف کیوں لیا ہواہے۔

پولیس نے واقعے کے بعد بی جے پی کے مقامی رہنما انیل راج کوحراست میں لے لیا ہے جبکہ مرکزی ملزم سنتوش کی تلاش جاری ہے


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.