اہم خبرِیں
نوجوانوں کے لیے انٹرن شپ پروگرام کا اعلان آصف علی زرداری کےخلاف چارج شیٹ جاری سینیٹ کمیٹی نے جسٹس رٹائرڈ جاوید اقبال کو طلب کرلیا نواز شریف نے احتساب عدالت کی کارروائی چیلنج کردی نواز شریف کواس حال میں پہنچانے والی مریم نواز ہے، شیخ رشید پاکستان کو کبھی تنہا نہیں چھوڑا، سعودی عرب حکومت کا پاکستانی واٹس ایپ بنانے کا منصوبہ اسٹاک ایکسچینج منفی ومثبت خبروں کی لپیٹ میں سائنسدانوں نے ’’سپر مِنی‘‘ پاور بینک تیار کرلیا بیکٹیریا کے نمونے لینے والابرقی کییپسول تیار صبا قمراوربلال سعید کی عبوری ضمانت منظور قومی ٹیم جارحانہ کرکٹ کھیلیں، انضمام الحق پاکستان کرکٹ ٹیم نے تمام ٹیموں کو پیچھے چھوڑ دیا بھارت کے یوم آزادی پر دنیا بھر میں یوم سیاہ منایا جا رہا ہے پاکستان قوم کوسلام محبت پیش کرتا ہوں، طیب اردگان آرمی چیف اور بل گیٹس میں ٹیلی فونک رابطہ پاکستان میں اقلیتوں کو عزت اوروقار دیا گیا ہے، فیاض الحسن چوہا... جوائنٹ ایکشن کمیٹی اسکول کھلوانے میں ناکام پروفیسر خالد مسعود گوندل کیلئے حکومت کا تمغہ حسن کارکردگی کا ا... یوم آزادی تقریب،184 شخصیات کیلئے پاکستان سول ایوارڈزکا اعلان

فیس ماسک پہننے کی ہدایت پر ڈرائیور کو ہلاک کر دیا گیا

فرانس: ایک بس ڈرائیور کی جانب سے مسافروں کو فیس ماسک پہننے کی ہدایت پر مسافروں نے انہیں مار مار کر ہلاک کر دیا۔
کورونا وائرس سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے اور ماسک پہننے کی ہدایت پر مسافروں نے بس ڈرائیور پر حملہ کر دیا۔
حملہ اتنا شدید تھا کہ ان کے دماغ پر گہری چوٹیں آئیں اور ڈاکٹروں نے اسے ’برین ڈیڈ‘ یعنی دماغی طور پر مردہ قرار دے دیا۔

59 سالہ بس ڈرائیور فلپ مونگیو کے ساتھ یہ حادثہ فرانس کے جنوب مغربی شہر بے یون میں چند دن قبل پیش آیا تھا۔ ایک ہفتہ ہسپتال میں زیرعلاج رہنے کے بعد فلپ مونگیو کی جمعے کو موت واقع ہو گئی تھی۔
ملک بھر سے سیاستدان بس ڈرائیور کو خراج تحسین پیش کر رہے ہیں جبکہ حملہ آوروں کی ’بزدلانہ‘ حرکت کی شدید مزمت کی جا رہی ہے۔
وکیل جیرمی بوریو نے اے ایف پی کو بتایا کہ دو افراد پر قتل کی کوشش کا مقدمہ دائر کیا گیا ہے، تاہم بس ڈرائیور کی ہلاکت کے بعد الزامات میں شدت لائی جائے گی۔ ان مشتبہ افراد کی عمریں 22 اور 23 سال کی ہیں۔

فرانس کے وزیراعظم نے بس ڈرائیور کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ٹویٹ کیا کہ فرانس فلپ مونگیو کو ایک مثالی شہری کے طور پر کبھی نہیں بھولے گا۔ انہوں نے شہریوں کو یقین دلایا کہ حملے میں ملوث افراد کو اس گھناؤنے جرم کی سزا دی جائے گی۔
فلپ مونگیو کے خاندان نے انہیں خراج تحسین پیش کرنے کے لیے مارچ کا انعقاد بھی کیا جس میں بڑی تعداد میں شہریوں نے شرکت کی۔ مارچ کا آغاز اس بس سٹاپ سے ہوا جہاں فلپ پر حملہ کیا گیا تھا۔
دیگر بس ڈرائیوروں نے بھی احتجاجاً پیر تک کام کرنے سے انکار کر دیا ہے اور سکیورٹی انتظامات کا مطالبہ کیا ہے۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

تبصرے بند ہیں.