انتہا پسندی اورہندوتواکی سیاست ملک کی طاقت کی راہ میں رکاوٹ ہے، بھارتی سابق چیف جسٹس

نئی دہلی: ہندوستانی سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس جگدیش سنگھ کہیر نے ایک بار پھر بھارت کا اصل چہرہ دنیاکے سامنے برہنہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انڈیا میں برھتی ہوئی انتہا پسندی،بد عنوانی  اور ہندو توا کے نام پر کی جانے والی سیاست بھارت کے عالمی طاقت بننے کی راہ میں سب سے بری رکاوٹ بن سکتی ہے ۔
ذرائع کے مطابق سابق ہندوستانی وزیر اعظم لال بہادر شاستری کی 52ویں برسی کے موقع پر منعقدہ تقریب میں سابق چیف جسٹس جگدیش سنگھ کیہر نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کیا اور ایک بار پھر اجودھیا تنازعہ کو پر امن طریقہ سے حل کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ انتہا پسندی، بد عنوانی اور ہندو توا  کی سیاست ملک کو دنیا کی طاقت بننے کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ 1947میں تقسیم ہند کے دوران ہندوؤں اور مسلمانوں نے بھیانک اور ہولناک تشدد کا زخم کھایا تھا،آزادی کے بعد ہندوستان جہاں سیکولر ملک بنا وہیں پاکستان نے ایک اسلامی ملک بننے کا فیصلہ کیا، بھارت کے رہنماؤں نے یہ طے کیا تھا کہ ملک میں مکمل طور پرسیکولرزم ہواور مذہب کی بنیادپر کوئی امتیاز نہ برتاجائے لیکن اب ہم ایک بار پھر اسے فراموش کرنے لگے ہیں اور جیسے کو تیسا کی راہ پر چل پڑے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ہندوستان عالمی طاقت بننے کی شدید خواہش رکھتا ہی لیکن آپ اگر مسلم ملکوں کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھانا چاہتے ہیں تو اپنے ملک میں مسلمانوں کے مخالف نہیں بن سکتے،اسی طرح اگر آپ عیسائی ملکوں سے دوستی کرنا چاہتے ہیں تو آپ عیسائیوں کی مخالفت نہیں کر سکتے ، ملک میں انتہا پسندی اور اقلیتوں پر ہونے والے پر تشدد واقعات انڈیا عالمی طاقت بننے کے خواب دیکھتا ہے لیکن اس وقت بھارت میں جو صورتحال ہے اس میں ہم کبھی بھی اپنے خواب کی تعبیر نہیں پا سکتے ۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.