Daily Taqat

سعودی صحافی جمالی خاشقجی کی گمشدگی کے پیچھے کچھ بدمعاش قاتل بھی ہوسکتےہیں, ڈونلڈ ٹرمپ

ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے شاہ سلمان کے ساتھ فون پر بات چیت کے بعد کہا ہے کہ سعودی صحافی جمالی خاشقجی کی گمشدگی کے پیچھے کچھ بدمعاش قاتل بھی ہو سکتے ہیں۔ دونوں لیڈروں نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان دوطرفہ تعلقات اور خطے میں ہونے والی تازہ پیش رفت کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا ہے۔صدر ٹرمپ نے سعودی صحافی جمال خاشقجی کے استنبول میں لاپتا ہونے کے واقعے کی تحقیقات کے سلسلے میں سعودی عرب اور ترکی کے درمیان تعاون کو سراہا ہے۔منگل کو شاہ سلمان سے بات کرنے کے بعدصدر ٹرمپ نے بتایا کہ سعودی حکومت اس بات سے بالکل لاعلم ہے کہ خاشقجی کے ساتھ کیا ہوا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کے شاہ سلمان سے بات کی ہے لیکن انھوں نے اس بات سے لاعلمی کا اظہار کیا کہ ہمارے سعودی شہری کے ساتھ کیا ہوا۔ انھوں نے کہا کہ وہ اس سوال کے جواب کے لیے ترکی کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ میں فوری طور پر سعودی عرب کے باردشاہ سے ملنے کے لیے وزیر خارجہ مائیک پومپپیو کو روانہ کر رہا ہوں۔امریکی میڈیا میں ایسی خبریں آنا شروع ہو گئی ہیں کہ شاید سعودی حکومت خاشقجی کی دوران تفتیش ہلاکت کا اعتراف کر لے۔دریں اثناء استنبول میں سعودی قونصل خانے کی جہاں اکتوبر کی دو تاریخ کو خاشقجی داخل ہونے کے بعد سے لاپتہ ہیں ترک اور سعودی تفتیش کاروں پر مشتمل ایک ٹیم تلاشی لے گی۔تاہم صحافیوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے ترک اہلکاروں کے عمارت میں داخلے سے چند گھنٹے قبل صفائی کے عملے کو اندر جاتے دیکھا گیا۔ترکی کے حکام کے خیال میں جمال خاشقجی کو دو ہفتے قبل قونصل خانے میں سعودی ایجنٹوں نے قتل کر دیا تھا، تاہم سعودی عرب اس سب کی شدید تردید کرتا ہے۔سعودی عرب پر مکمل وضاحت فراہم کرنے کے لیے سفارتی دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔پیر کو سعودی عرب کے شاہ سلمان نے اس معاملے کی تحقیقات کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔خبر رساں ادارے روئٹرز نے ایک اہلکار کے حوالے سے بتایا: ’شاہ سلمان نے جمال خاشقجی کے معاملے میں سرکاری پراسیکیوٹر کو استنبول میں مشترکہ ٹیم کی معلومات کی بنیاد پر اندرونی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ گذشتہ ہفتے ترکی نے جمال خاشقجی کی گمشدگی کی تحقیقات کرنے کے لیے مشترکہ ٹیم تشکیل دینے کی سعودی تجویز کو قبول کر لیا تھا۔یہ تازہ اقدام ایسے وقت میں کیے جا رہے ہیں جب بہت سی بڑی کاروباری شخصیات رواں ماہ سعودی عرب میں ہونے والی ایک بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت سے انکار کا کہہ رہی ہیں۔جے پی مورگن، جیمی ڈیمون ان سرکردہ شخصیات میں شامل ہیں جنھوں نے اس کانفرنس میں شرکت سے انکار کیا ہے۔ترکی میں سعودی قونصل خانے کی تلاشی کے لیے ترک عملہ عمارت میں داخل ہو گیا تاہم صحافیوں نے اس سے چند گھنٹے قبل صفائی کرنے والے عملے کو اندر جاتے دیکھا۔سعودی عرب نے گذشتہ ہفتے ترک حکام کو عمارت کی تلاشی لینے کی اجازت دی تھی لیکن اس کا کہنا تھا کہ یہ صرف سطحی چھان بین ہوگی۔مگر ترکی نے اس پیشکش کو مسترد کر دیا تھا۔ صباح اخبار کا کہنا ہے کہ تحقیقات کرنے والے لومینل نامی کیمیکل کے ساتھ تلاشی لینا چاہتے ہیں۔ اس کیمیکل سے خون کے نشان تلاش کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔حکام کے مطابق سعودی شاہ سلمان اور ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان کے درمیان اتوار کو ٹیلی فون کے ذریعے رابطہ ہوا، جس میں انھوں نے دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کی اہمیت پر زور دیا۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »