Daily Taqat

کیا آپ اس بہشتی مخلوق کو جانتے ہیں ؟

لاہور(ایس چودھری) پانی پلا کر سعادت حاصل کرنا صدیوں سے رائج انسانی خدمت کا ایسا کام ہے جو پیشہ کا بھی درجہ رکھتا ہے۔پرانے وقتوں میں پینے کے پانی کو گھر گھر پہنچانے والے کو ماشکی ، سقہ اور بہشتی کہا جاتا تھا۔اگرچہ یہ پیشہ مفقود ہوچکا ہے تاہم اسکے آثار آج بھی دیکھے جاسکتے ہیں۔بھارت میں ماشکی پیسے کی بجائے اب اسکو خدمت کے طور پر انجام دیتے ہیں ۔بھارت میں بعض ماشکی اپنے آپ کو شیخ یاعباسی کہلواتے ہیں۔

اس قبیلہ کے لوگوں کا کہنا ہے کہ واقعہ کربلا میں حضرت عباسؓ اپنے مشکیزے سے پانی بھرتے ہوئے شہید ہوئے تھے اور ہمارا کام بھی پیاسوں کی پیاس بجھانا ہے۔ بھارت میں ماشکیوں کی ایک باقاعدہ برادری ’’آل انڈیا جماعت العباسی‘‘ کے نام سے موجود ہے۔ جب کہ دوسری برادری ’’مہاراشڑا بہشتی سماج‘‘ کہلاتی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ دلی کی جامع مسجد میں ہر جمعہ کے روز بہت سے ماشکی خاندانوں کے لوگ اکٹھے ہوجاتے ہیں جو خود کو بہشتی کہلواتے ہیں ،وہ نمازیوں کو پانی پلاتے ہیں۔یہ بہشتی اپنے ایک عظیم بادشاہ ’’ نظام سقہ ‘‘ کی یاد میں یہ خدمت انجام دیتے ہوئے اسکو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔

نظام سقہ کو مغل فرمانروا ہمایوں نے ایک دن کی بادشاہت عنایت کی تھی۔اسکی وجہ یہ تھی کہ جب ہمایوں کوشیر شاہ سوری نے شکست دی تو وہ دہلی واپس آتے ہوئے اسے دریا عبور کرنا پڑا ۔ اْسے تیرنا نہیں آتا تھا۔ دریا کے کنارے پر نظام نامی سقّہ اپنے مشکیزے میں پانی بھر رہا تھا، اْس نے ہمایوں کو دریا پار کرانے میں مدد کی تھی۔ ہمایوں کو جب دوبارہ اقتدار نصیب ہوا تو اس نے سقّہ کو اپنے دربار میں بلوایا اور اس کی خواہش پر اپنا تاج اس کے سر پر رکھ کر اسے ایک دن کی بادشاہت عنایت کی تھی ۔اس کی یاد میں آج بھی دلی کے بہشتی اْس کی یاد میں جامع مسجد کی سیڑھیوں اور ہمایوں کے مزار پر چاندی کے کٹوروں میں لوگوں کو پانی پلاتے ہیں۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »