افغانستان پر طالبان کے کنٹرول میں اضافہ ہوا، رپورٹ

افغان علاقوں پر 2015 میں افغان حکومت کا 72 فی صد، جبکہ اب 55.5 فیصد کنٹرول ہے

 افغانستان کے سلسلے میں حالیہ جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گزشتہ تین سال کے دوران افغانستان پر طالبان کے کنٹرول میں اضافہ ہوا۔ تفصیلات کے مطابق امریکی اسپیشل انسپکٹر جنرل برائے تعمیرِ نو افغانستان (SIGAR) نے رپورٹ جاری کی ہے کہ حالیہ برسوں میں افغانستان پر طالبان کا کنٹرول بڑھا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2015 میں افغان حکومت کا 72 فی صد علاقوں پر کنٹرول تھا، موجودہ کنٹرول 407 اضلاع میں 55.5 فی صد رہ گیا ہے، افغان حکومت اور فوج اپنا کنٹرول قائم رکھنے میں نا کام ہے۔ امریکی نگران ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق امریکی حمایت یافتہ حکومت طالبان کے مقابلے میں کئی اضلاع پر اپنا کنٹرول کھو چکی ہے، جب کہ سیکورٹی فورسز میں اموات کا تناسب بھی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا ہے۔

حالیہ سہ ماہی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکا کی جانب سے ممکنہ امن مذاکرات کے لیے طالبان کے ساتھ ابتدائی رابطے شروع کرنے پر کابل حکومت شدید دباؤ میں ہے۔ رپورٹ کے مطابق طالبان تا حال کوئی بڑا صوبائی مرکز قبضہ کرنے میں کام یاب نہیں ہوئے۔ اگرچہ رواں سال طالبان کی طرف سے مغربی افغانستان میں فراہ اور وسطی میں غزنی اور شمال میں بغلان پر حملے کیے گئے ہیں، تاہم ملک کے دیگر حصوں میں ان کا کنٹرول پھیلا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ چھ ماہ بعد ہونے والے صدارتی انتخابات سے قبل یہ اعداد و شمار افغانستان میں امن و امان کی خراب صورتِ حال کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ حالاں کہ امریکی خصوصی سفیر زلمے خلیل زاد ممکنہ امن مذاکرات کے سلسلے میں طالبان رہنماؤں سے بھی ملاقات کر چکے ہیں۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.